سیدھے مواد پر جائیں
Islām and īmān

Islām and submission in the Qur’ān and the Sabīl library

Islām in the Qur’ān, the five pillars as the ḥadīth of Jibrīl lists them, the testimony of faith, and dying as a Muslim, with every source listed.

اے آئی کا لکھا ہوا · علمی جائزہ ابھی باقی ہے

اس مضمون کے الفاظ اے آئی نے سبیل لائبریری اور اس کے مآخذ سے لکھے ہیں، اور اے آئی ہی نے انہیں ان سے ملا کر جانچا ہے۔ ابھی کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی متون، ان کے معانی اور ان کے مآخذ لائبریری اور قرآن کے اپنے ہیں، اور بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہاں ہیں۔ اپنے حالات کے بارے میں فتوے کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔

یہ مضمون ابھی اس زبان میں نہیں لکھا گیا۔ یہ انگریزی میں دکھایا گیا ہے۔

21 اکتوبر، 2026 کو شائع ہوا11 منٹ کا مطالعہ

Islām is, in 3:19 below, the true religion with Allah. The edition the app uses keeps the word Islam there and renders its kin as submitting in others (2:128, 6:163); in two of the verses below (12:101, 41:33) it adds to “Muslim” the words “submitting to You” or “submitting to Allah”. In the verses below it is also something asked for: to be among those who submit, and to die submitting. This page sets out the testimony with which a person enters Islām, the five pillars as the narrations list them, and the verses in which the Qur’ān speaks of submitting. Every verse is shown with Tanzil’s Arabic and its meaning in the edition the app uses, and every narration is named by its collection and number at the end. Some verses are shown with the edition’s own notes beneath them; those are that edition’s words, not this page’s; some say what a word means and some give the edition’s own counsel, and this page has not checked them. The page gives no ruling.

The religion with Allah

The Qur’ān says that the true religion with Allah is Islām.

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَـٰمُ ۗ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے[1] ، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے[2] اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے[3] اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے۔

[1] اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اب اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرالزمان حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس میں توحید ورسالت اور آخرت پر اس طرح یقین وایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے بتلایا ہے۔ اب محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کر لینا، یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ہی ملے گی۔ ایمان واسلام اوردین یہ ہے کہ اللہ کوایک مانا جائے اور صرف اسی ایک معبود کی عبادت کی جائے، محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سمیت تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے۔ اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کی ذات پر رسالت کا خاتمہ تسلیم کیاجائے اورایمانیات کے ساتھ ساتھ وہ عقائد واعمال اختیار کئے جائیں جو قرآن کریم میں یا حدیث رسول (صلى الله عليه وسلم) میں بیان کئے گئے ہیں۔ اب اس دین اسلام کے سوا کوئی اور دین عنداللہ قبول نہیں ہو گا۔ «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ» (آل عمران: 85) نبی (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پوری انسانیت کے لئے ہے۔ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» (الأعراف: 158) ”کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں“، «تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا» (الفرقان: 1) ”برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو“ اور حدیث میں ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو یہودی یا نصرانی مجھ پرایمان لائے بغیر فوت ہوگیا، وہ جہنمی ہے۔“ (صحیح مسلم) مزید فرمایا ”بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ“ ”میں احمرواسود (یعنی تمام انسانوں کے لئے نبی بناکربھیجا گیاہوں“ اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنے وقت کے تمام سلاطین اور بادشاہوں کوخطوط تحریر فرمائے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی (صحیحین۔ بحوالہ ابن کثیر )
[2] ان کے اس باہمی اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو ایک ہی دین کے ماننے والوں نے آپس میں برپا کر رکھا تھا مثلاً یہودیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں۔ اسی طرح عیسائیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں، پھر وہ اختلاف بھی مراد ہے جواہل کتاب کے درمیان آپس میں تھا۔ اور جس کی بناپر یہودی نصرانیوں کو اورنصرانی یہودیوں کوکہاکرتے تھے (تم کسی چیز پر نہیں ہو۔) نبوت محمدی (صلى الله عليه وسلم) اور نبوت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں اختلاف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اختلافات دلائل کی بنیاد پر نہیں تھے، محض حسد اوربغض وعناد کی وجہ سے تھے یعنی وہ لوگ حق کو جاننے اورپہچاننے کے باوجود محض اپنے خیالی دنیاوی مفاد کے چکر میں غلط بات پر جمے رہتے اور اس کو دین باور کراتے تھے۔ تاکہ ان کی ناک بھی اونچی رہے اور ان کاعوامی حلقۂ ارادت بھی قائم رہے۔ افسوس آج مسلمان علما کی ایک بڑی تعداد ٹھیک انہی غلط مقاصد کے لئے ٹھیک اسی غلط ڈگر پر چل رہی ہے۔ -هَدَاهُمُ اللهُ وَإِيَّانَا-
[3] یہاں ان آیتوں سے مراد وہ آیات ہیں جو اسلام کے دین الٰہی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

قرآن 3:19Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

The testimony of faith

The library’s title The First Forty Days opens with an entry headed “The testimony of faith”: the words of the testimony, that there is no god but Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah, with their transliteration and meaning, and beneath them a line of the library’s own on when the testimony is enough. That line is the library’s, its scholarly review is pending, and this page gives no ruling on it: for what applies to your own situation, ask a scholar. The source line cites Muslim with the grade ṣaḥīḥ for a saying that Islām erases what came before it; in Ṣaḥīḥ Muslim, ʿAmr ibn al-ʿĀṣ reports the Prophet ﷺ saying it to him when he came to accept Islām. The last line of the entry, “Then, on the first day”, heads the steps that follow it in the title, and is not a note on the testimony.

مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔

جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔

کلمۂ شہادت
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
Ash-hadu an lā ilāha illallāh, wa ash-hadu anna Muḥammadan Rasūlullāh
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔
دل کے یقین کے ساتھ کہا جائے تو یہی کافی ہے۔ اس کے صحیح ہونے کے لیے نہ کسی گواہ کی ضرورت ہے، نہ کسی تقریب کی، نہ کسی سند کی، اور نہ کسی عربی نام کی۔ اسلام قبول کر لینا اس سے پہلے کی ہر چیز کو مٹا دیتا ہے۔

مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:

Said with belief in the heart, this is enough. No witness is required for its validity, no ceremony, no certificate, and no Arabic name. Islam accepted erases everything that came before it.
مسلم · صحیح — “اسلام اپنے سے پہلے کی ہر چیز کو ڈھا دیتا ہے۔”
پھر، پہلے ہی دن
پہلے چالیس دن سے · پوری تحریر کھولیں

The five pillars

In the ḥadīth of Jibrīl, as ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb reports it in Ṣaḥīḥ Muslim, the Prophet ﷺ is asked about Islām and answers with five things: to testify that there is no god but Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah, to establish the prayer, to give zakāh, to fast Ramaḍān, and to make the pilgrimage to the House for one who is able. Ibn ʿUmar reports the Prophet ﷺ saying that Islām is built upon five, and names five. In al-Bukhārī’s narration of it, and in two of Muslim’s, the pilgrimage comes before the fast; in another of Muslim’s, Ibn ʿUmar himself corrects a man who put the pilgrimage first, saying that this is how he heard it from the Prophet ﷺ.

The library’s Forty Ḥadīth of an-Nawawī sets out the five in its card on Ibn ʿUmar’s narration, but that title is a single entry with open questions in the library’s own checking, and it is not quoted here. Two of the library’s posters carry the pillars’ places in the order of Muslim’s narrations: the poster How to Pray is headed “The second pillar”, and the Ramaḍān poster “The fourth pillar”. The posters hold lines on rulings and on where the schools differ, which this page does not repeat.

Submitting

Islām in the Qur’ān is also a request. In one verse a du‘ā asks that the two who make it be made submitted to Allah, and a nation of their descendants too, and that they be shown their rituals and their repentance accepted. The du‘ā begins in the verse before it (2:127), where Ibrāhīm and Ismāʿīl, raising the foundations of the House, ask their Lord to accept it from them; this verse continues it. The edition’s note on it is shown with the verse.

رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔

قرآن 2:128Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

And Ibrāhīm and Yaʿqūb enjoined it on their children, telling them that Allah had chosen this religion for them, and that they should not die except as Muslims.

وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبْرَٰهِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَـٰبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔[1]

[1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) وحضرت یعقوب (عليه السلام) نے الدِّينَ کی وصیت اپنی اولاد کو فرمائی جو یہودیت نہیں اسلام ہی ہے، جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت موجود ہے اور قرآن کریم میں دیگر مقامات پر بھی اس کی تفصیل آئے گی۔ جیسے «إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلامُ» (آل عمران: 19) وغیرہ ”اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔“

قرآن 2:132Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Prayer, sacrifice, living and dying

Two verses name prayer, sacrifice, living and dying together. The Prophet ﷺ is told to say that his prayer, his sacrifice, his living and his dying are all for Allah, Lord of the worlds; that He has no partner; that this is what he has been commanded; and that he is the first to submit to Allah.

قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔

قرآن 6:162Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
لَا شَرِيكَ لَهُۥ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ

اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔[1]

[1] توحید الوہیت کی یہی دعوت تمام انبیا نے دی، جس طرح یہاں آخری پیغمبر کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا کہ ”مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں“۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”ہم نےآپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بھیجے، سب کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تم میری ہی عبادت کرو“ (الانبیاء: 25) چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی یہ اعلان فرمایا «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» (يونس: 72) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ أَسْلِمْ (فرمانبردار ہوجا) تو انہوں نے فرمایا «أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» (البقرة: 131) ”میں رب العالمین کے لئے مسلمان یعنی فرمانبردار ہوگیا“، حضرت ابراہیم السلام ویعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی «فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ» (البقرة: 132) ”تمہیں موت اسلام پر آنی چاہیے“، حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا فرمائی «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا» (يوسف: 101) ”مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے اٹھانا“، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا «فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ» (يونس: 84) ”اگر تم مسلمان ہو تو اسی اللہ پر بھروسہ کرو“، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے کہا «وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» (المائدة: 111) اسی طرح اور بھی تمام انبیاء اور ان کے مخلص پیروکاروں نے اسی اسلام کو اپنایا جس میں توحید الوہیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ گو بعض بعض شرعی احکام ایک دوسرے سے مختلف تھے۔

قرآن 6:163Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Dying as a Muslim

Besides 2:132, two more verses speak of dying as a Muslim. One tells the believers to fear Allah as He should be feared, and not to die except as Muslims.

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے[1] اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا.

[1] اس کا مطلب ہے کہ اسلام کے احکام وفرائض پورے طور پر بجا لائے جائیں اور منہیات کے قریب نہ جایا جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابہ (رضي الله عنهم) پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ”اللہ سے اپنی طاقت کے مطابق ڈرو نازل فرما دی“۔ لیکن اسے ناسخ کی بجائے اس کی مُبَيّنٌ (بیان وتوضیح کرنے والی) قرار دیا جائے تو زیادہ صحیح ہے، کیونکہ نسخ وہیں ماننا چاہئے جہاں دونوں آیتوں میں جمع وتطبیق ممکن نہ ہو اور یہاں تطبیق ممکن ہے۔ معنی یہ ہوں گے «اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ”اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح اپنی طاقت کے مطابق ڈرنے کا حق ہے“ (فتح القدير)

قرآن 3:102Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

The other is a du‘ā near the end of Sūrah Yūsuf: the speaker says to his Lord that He has given him authority and taught him something of the interpretation of dreams, and asks to be made to die as a Muslim and joined with the righteous.

رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ

اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا[1] اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی[2]۔ اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے.[3]

[1] یعنی ملک مصر کی فرمانروائی عطا فرمائی، جیسا کہ تفصیل گزری۔
[2] حضرت یوسف (عليه السلام) اللہ کے پیغمبر تھے، جن پر اللہ کی طرف سے وحی کا نزول ہوتا اور خاص خاص باتوں کا علم انہیں عطا کیا جاتا۔ چنانچہ اس علم نبوت کی روشنی میں پیغمبر خوابوں کی تعبیر بھی صحیح طور پر کر لیتے۔ تھے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (عليه السلام) کو اس فن تعبیر میں خصوصی ملکہ حاصل تھا جیسا کہ قید کے ساتھیوں کے خواب کی اور سات موٹی گایوں کے خواب کی تعبیر پہلے گزری۔
[3] اللہ تعالٰی نے حضرت یوسف (عليه السلام) پر جو احسانات کیے، انہیں یاد کرکے اور اللہ تعالٰی کی دیگر صفات کا تذکرہ کرکے دعا فرما رہے ہیں کہ جب مجھے موت آئے تو اسلام کی حالت میں آئے اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ اس سے مراد حضرت یوسف (عليه السلام) کے آباواجداد، حضرت ابراہیم و اسحاق علیہا السلام وغیرہ مراد ہیں۔ بعض لوگوں کو اس دعا سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ حضرت یوسف (عليه السلام) نے موت کی دعا مانگی حالانکہ یہ موت کی دعا نہیں ہے آخر وقت تک اسلام پر استقامت کی دعا ہے۔

قرآن 12:101Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Muslims named in the verses

One verse names Muslim men and women first in a list: believing, obedient, truthful, patient, humble, charitable and fasting men and women, those who guard their chastity and those who remember Allah much; for all of them Allah has prepared forgiveness and a great reward.

إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَـٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَٱلْقَـٰنِتِينَ وَٱلْقَـٰنِتَـٰتِ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلصَّـٰدِقَـٰتِ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰبِرَٰتِ وَٱلْخَـٰشِعِينَ وَٱلْخَـٰشِعَـٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَـٰتِ وَٱلصَّـٰٓئِمِينَ وَٱلصَّـٰٓئِمَـٰتِ وَٱلْحَـٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَـٰفِظَـٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں[1] مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے.

[1] حضرت ام سلمہ (رضی الله عنها) اور بعض دیگر صحابیات نے کہا کہ کیا بات ہے، اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں سے ہی خطاب فرماتا ہے، عورتوں سے نہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسند احمد 6 / 301، ترمذی، نمبر3211) اس میں عورتوں کی دل داری کا اہتمام کردیا گیا ہے ورنہ تمام احکام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں سوائے ان مخصوص احکام کے جو صرف عورتوں کے لئے ہیں۔ اس آیت اور دیگر آیات سے واضح ہے کہ عبادت واطاعت الٰہی اور اخروی درجات و فضائل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ دونوں کے لئے یکساں طور پر یہ میدان کھلا ہے اور دونوں زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور اجر وثواب کما سکتے ہیں۔ جنس کی بنیاد پر اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ علاوہ ازیں مسلمان اور مومن کا الگ الگ ذکر کرنے سے واضح ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے۔ ایمان کا درجہ اسلام سے بڑھ کر ہے جیسا کہ قرآن وحدیث کے دیگر دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔

قرآن 33:35Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

And another asks who is better in speech than one who calls to Allah, does righteous deeds, and says that he is one of the Muslims.

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا وَقَالَ إِنَّنِى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ

اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں.[1]

[1] یعنی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے ساتھ ساتھ خود بھی ہدایت یافتہ، دین کا پابنداور اللہ کا مطیع ہے۔

قرآن 41:33Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

References

Verses of the Qur’ān, by sūrah and verse, shown above: 2:128; 2:132; 3:19; 3:102; 6:162–163; 12:101; 33:35; 41:33. Named in the prose: 2:127.

Narrations, by collection and number as sunnah.com numbers them: al-Bukhārī by the numbering of Fatḥ al-Bārī; Muslim by Muḥammad Fuʾād ʿAbd al-Bāqī’s numbers, with the letter sunnah.com adds where it divides one.

  • Islām erases what came before it, to ʿAmr ibn al-ʿĀṣ: Ṣaḥīḥ Muslim 121.
  • The ḥadīth of Jibrīl, Islām and its five: Ṣaḥīḥ Muslim 8a.
  • Islām is built upon five: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 8; Ṣaḥīḥ Muslim 16a, with Ibn ʿUmar’s correction of the order (in the Arabic; sunnah.com’s English leaves out his last words); Ṣaḥīḥ Muslim 16b and 16c, with the pilgrimage before the fast.

From the Sabīl library: The First Forty Days, the entry “The testimony of faith”; the posters How to Pray and Ramaḍān, their headings, linked; the Forty Ḥadīth of an-Nawawī, linked, not quoted.

Where to go next

اس مضمون میں نقل شدہ
پہلے چالیس دن
تصحیحات اور آرا

سبیل کا میل باکس تیار کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی کوئی اسے پڑھنے لگے گا، یہ مضمون تصحیح یا رائے بھیجنے کا طریقہ بتا دے گا۔