سیدھے مواد پر جائیں
Character and the heart

Iḥsān and doing good in the Qur’ān and the Sabīl library

Iḥsān in the ḥadīth of Jibrīl and in all things, and twenty-one Qur’ān verses on doing good, with a du‘ā and a card from the Sabīl library.

اے آئی کا لکھا ہوا · علمی جائزہ ابھی باقی ہے

اس مضمون کے الفاظ اے آئی نے سبیل لائبریری اور اس کے مآخذ سے لکھے ہیں، اور اے آئی ہی نے انہیں ان سے ملا کر جانچا ہے۔ ابھی کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی متون، ان کے معانی اور ان کے مآخذ لائبریری اور قرآن کے اپنے ہیں، اور بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہاں ہیں۔ اپنے حالات کے بارے میں فتوے کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔

یہ مضمون ابھی اس زبان میں نہیں لکھا گیا۔ یہ انگریزی میں دکھایا گیا ہے۔

21 اکتوبر، 2026 کو شائع ہوا19 منٹ کا مطالعہ

In the narration of Shaddād ibn Aws below, iḥsān is doing a thing well; in the verses, the edition the app uses renders the word and its kin as doing good. In the ḥadīth of Jibrīl it is the third thing the Prophet ﷺ is asked about, after Islām and īmān and before the Hour. This page sets out how the narrations describe iḥsān, then gathers the verses of the Qur’ān that speak of doing good and of those who do it, and two entries of the Sabīl library. Every verse is shown with Tanzil’s Arabic and its meaning in the edition the app uses; the verses were chosen by their wording in that English meaning (“do good”, “those who do good”, “doers of good”, “goodness”, “kindness”, “Be kind”), with the verses that continue one of them (51:17 to 51:19) and one that says to repel evil with what is good (41:34). Every narration is named by its collection and number at the end. Some verses are shown with the edition’s own notes beneath them; those are that edition’s words, not this page’s, and this page has not checked them. The page gives no ruling of its own; for your own circumstances, ask a scholar.

What iḥsān is, in the ḥadīth of Jibrīl

In Ṣaḥīḥ Muslim, ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb reports that a man came to the Prophet ﷺ and asked him about Islām, then about īmān, then about iḥsān. Of iḥsān the Prophet ﷺ said that it is to worship Allah as though you see Him, and that if you do not see Him, He sees you. At the end the Prophet ﷺ told ʿUmar that the man was Jibrīl, come to teach them their religion. Al-Bukhārī has the same answer about iḥsān in Abū Hurayrah’s narration of the occasion.

The library’s Forty Ḥadīth of an-Nawawī has a card on the ḥadīth of Jibrīl. It is not quoted here, because the library’s own checking has open questions about that title, among them how the card abridges the ḥadīth. The narration the library sets beside the card is in the ḥadīth reader, in Muslim, as number 93 of the dataset’s count.

Iḥsān in everything

Iḥsān is not only for worship. In Ṣaḥīḥ Muslim, Shaddād ibn Aws reports the Prophet ﷺ saying that Allah has prescribed iḥsān in all things, and giving as his examples that killing and slaughtering be done well, and, for slaughter, that the blade be sharpened and the animal given ease. The verses below speak of doing good in spending, anger, justice and towards parents, and of repelling evil with what is good.

Verses that speak of those whom Allah loves

Two of these verses say that Allah loves those who do good. In the first, “do good” follows the commands to spend in the way of Allah and not to throw yourselves into destruction.

وَأَنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلْقُوا۟ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى ٱلتَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوٓا۟ ۛ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو[1] اور سلوک واحسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

[1] اس سے بعض لوگوں نے ترک نفاق، بعض نے ترک جہاد اور بعض نے گناہ پر گناہ کئے جانا مراد لیا ہے۔ اور یہ ساری ہی صورتیں ہلاکت کی ہیں، جہاد چھوڑ دو گے، یا جہاد میں اپنا مال صرف کرنے سے گریز گرو گے تو یقیناً دشمن قوی ہوگا اور تم کمزور۔ نتیجہ تباہی ہے۔

قرآن 2:195Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

The second describes what those it speaks of do: they spend in times of prosperity and adversity, they restrain their anger and they pardon people. The edition’s note on it quotes a saying of the Prophet ﷺ.

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلْكَـٰظِمِينَ ٱلْغَيْظَ وَٱلْعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں[1] ، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں[2]، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.

[1] یعنی محض خوش حالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر حال اور ہر موقعے پر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
[2] یعنی جب غصہ انہیں بھڑکاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں یعنی اس پر عمل نہیں کرتے اور ان کو معاف کر دیتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرتے ہیں۔

قرآن 3:134Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Verses that speak of Allah being with them, and of His mercy and guidance

Two of these verses say that Allah is with those who do good. The first speaks of “those who strive in Our cause” and ends by saying that Allah is with those who do good; the second says it of those who fear Him and those who do good.

وَٱلَّذِينَ جَـٰهَدُوا۟ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں[1] ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے[2]۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے.[3]

[1] یعنی دین پر عمل کرنے میں جو دشواریاں، آزمائشیں اور مشکلات پیش آتی ہیں۔
[2] اس سے مراد دنیا وآخرت کے وہ راستے ہیں جن پر چل کر انسان کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
[3] احسان کا مطلب ہے اللہ کوحاضر ناظر جان کر ہرنیکی کےکام کو اخلاص کے ساتھ کرنا، سنت نبوی (صلى الله عليه وسلم) کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے میں برائی کے بجائے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کےمفہوم میں شامل ہیں۔

قرآن 29:69Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ

یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے.

قرآن 16:128Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

A third says that the mercy of Allah is close to those who do good, and a fourth calls the Book guidance and mercy for those who do good.

وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَـٰحِهَا وَٱدْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔[1]

[1] ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے:
1- اللہ تعالیٰ سے آہ و زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے ۔ جس طرح کہ حدیث میں بھی آتا ہے ۔ لوگو ! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو ( یعنی آواز پست رکھو ) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا ہے نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے۔ (صحيح بخاري ، كتاب الدعوات، باب الدعاء إذا علا عقبة - ومسلم - كتاب الجنة ، باب استحباب خفض الصوت بالذكر)
2- دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔
3- اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کرکے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔
4- اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں ۔ یقیناً اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے ۔

قرآن 7:56Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
هُدًى وَرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِينَ

جو نیکو کاروں کے[1] لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے.

[1] مُحْسِنِينَ، مُحْسِنٌ کی جمع ہے۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں احسان کرنےوالا، والدین کے ساتھ، رشتے داروں کےساتھ، مستحقین اور ضرورت مندوں کے ساتھ۔ دوسرے معنی ہیں، نیکیاں کرنے والا، یعنی برائیوں سے مجتنب اور نیکو کار۔ تیسرے معنی ہیں اللہ کی عبادت نہایت اخلاص اور خشوع وخضوع کے ساتھ کرنے والا۔ جس طرح حدیث جبرائیل (عليه السلام) میں ہے، أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ قرآن ویسے تو سارے جہاں کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے لیکن اس سے اصل فائدہ چونکہ صرف محسنین اور متقین ہی اٹھاتے ہیں، اس لئے یہاں اس طرح فرمایا۔

قرآن 31:3Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Verses about their reward

Four of these verses speak of the reward of those who do good. One says that for them there will be the best reward and more; the edition’s note on it says what it takes “and more” to mean and cites its source.

لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ

جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی[1] اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وه اس میں ہمیشہ رہیں گے.

[1] اس زیادہ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں لیکن حدیث میں اس کی تفسیر دیدار باری تعالٰی سے کی گئی ہے جس سے اہل جنت کو جنت کی نعمتیں دینے کے بعد، مشرف کیا جائے گا (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب إثبات رؤية المؤمنين في الآخرة لربهم)

قرآن 10:26Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

A short verse asks whether the reward for goodness is anything but goodness.

هَلْ جَزَآءُ ٱلْإِحْسَـٰنِ إِلَّا ٱلْإِحْسَـٰنُ

احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے.[1]

[1] پہلے احسان سے مراد نیکی اوراطاعت اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔

قرآن 55:60Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Two of these verses say that Allah does not let their reward go to waste. In the first, the speaker is Joseph, answering the question “Are you really Joseph?”

قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے[1] ۔ جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل وکرم کیا، بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا.[2]

[1] بھائیوں نے جب عزیز مصر کی زبان سے اس یوسف (عليه السلام) کا تذکرہ سنا، جسے انہوں نے بچپن میں کنعان کے ایک تاریک کنویں میں پھینک دیا تھا، تو وہ حیران بھی ہوئے اور غور سے دیکھنے پر مجبور بھی کہ کہیں ہم سے ہم کلام بادشاہ، یوسف (عليه السلام) ہی تو نہیں؟ ورنہ یوسف (عليه السلام) کے قصے کا اسے کس طرح علم ہو سکتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تو یوسف (عليه السلام) ہی تو نہیں؟۔
[2] سوال کے جواب میں اقرار و اعتراف کے ساتھ، اللہ کا احسان کا ذکر اور صبر و تقویٰ کے نتائج حسنہ بھی بیان کر کے بتلا دیا کہ تم نے مجھے ہلاک کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لیکن یہ اللہ تعالٰی کا فضل و احسان ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ کنوئیں سے نجات عطا فرمائی، بلکہ مصر کی فرمانروائی بھی عطا فرما دی اور یہ نتیجہ ہے اس صبر اور تقویٰ کا جس کی توفیق اللہ تعالٰی نے مجھے دی۔

قرآن 12:90Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا

یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے.[1]

[1] قرآن کے انداز بیان کے مطابق جہنمیوں کے ذکر کے بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے تاکہ لوگوں کے اندر جنت حاصل کرنے کا شوق و رغبت پیدا ہو۔

قرآن 18:30Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

A description of them: their nights and their wealth

One passage describes people who “were indeed doers of good beforehand”, and goes on to say what they used to do: sleep only a little at night, seek forgiveness before dawn, and in their wealth there was a share for the beggar and the destitute. The four verses follow one another.

ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ

ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے.

قرآن 51:16Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
كَانُوا۟ قَلِيلًا مِّنَ ٱلَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ

وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے.[1]

[1] هُجُوعٌ کے معنی ہیں، رات کو سونا، مَا يَهْجَعُونَ میں ما تاکید کے لئے ہے۔ وہ رات کو کم سوتے تھے، مطلب ہے ساری رات سو کر غفلت اور عیش وعشرت میں نہیں گزار دیتے تھے۔ بلکہ رات کا کچھ حصہ اللہ کی یاد میں اور اس کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہوئے گزارتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں بھی قیام اللیل کی تاکید ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں فرمایا ”لوگو ! لوگوں کو کھانا کھلاؤ، صلۂ رحمی کرو، سلام پھیلاؤ اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“۔ (مسند احمد 5/ 451)۔

قرآن 51:17Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
وَبِٱلْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے.[1]

[1] وقت سحر، قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسےبخش دوں، کوئی سائل ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کر دوں۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين ، باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه)۔

قرآن 51:18Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
وَفِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ

اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا.[1]

[1] محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چنانچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی وسماوی میں،تباہ ہو جائے۔

قرآن 51:19Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Some of the library’s du‘ās for seeking forgiveness are gathered on Sayyid al-Istighfār and other du‘ās for seeking forgiveness.

Justice and kindness, and the share of this world

This verse names justice, kindness and giving relatives their dues, and then what Allah forbids.

إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے[1] ، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو.

[1] عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو ودرگزر اور معاف کر دینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے طے ہے لیکن دیتے وقت ۱۰،۲۰ روپے زیادہ دے دینا، طے شدہ سو روپے کی ادائیگی حق واجب ہے اور یہ عدل ہے۔ مزید ۱۰،۲۰ روپے یہ احسان ہے۔ عدل سے بھی معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے لیکن احسان سے مزید خوش گواری اور اپنائیت و فدائیت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں۔ اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا اہتمام، عمل واجب سے زیادہ عمل جس سے اللہ کا قرب خصوصی حاصل ہوتا ہے۔ احسان کے ایک تیسرے معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت ہے، جس کو حدیث میں «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ» ”اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ”إِيَتَاءِ ذِي الْقُرْبَى“ (رشتے داروں کا حق ادا کرنا یعنی ان کی امداد کرنا ہے) اسے حدیث میں صلہ رحمی کہا گیا ہے اور اس کی نہایت تاکید احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ عدل واحسان کے بعد اس کا الگ سے ذکر یہ بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔ ”فحشاء“ سے مراد بے حیائی کے کام ہیں۔ آج کل بےحیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب ترقی اور آرٹ قرار پا گیا ہے۔ یا ”تفریح“ کے نام پر اس کا جواز تسلیم کر لیا گیا ہے۔ تاہم محض خوشنما لیبل لگا لینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شریعت اسلامیہ نے زنا اور اس کے مقدمات کو رقص وسرود بےپردگی اور فیشن پرستی کو اور مرد و زن کے بےباکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت اور دیگر اس قسم کی خرافات کو بے حیائی قرار دیا ہے، ان کا کتنا بھی اچھا نام رکھ لیا جائے مغرب سے درآمد شدہ یہ خباثتیں جائز قرار نہیں پا سکتیں۔ ”مُنْكَرٌ“ ہر وہ کام ہے جسے شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اور ”بَغْيٌ“ کا مطلب ظلم وزیادتی کا ارتکاب۔ ایک حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے (آخرت کے علاوہ) دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔ (ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ, ﻛﺘﺎﺏ الزھد, ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺒﻐﯽ)

قرآن 16:90Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

This verse is addressed to someone as “you”. It says to seek, with what Allah has given, the abode of the Hereafter, without forgetting “your share of this world”, and to do good as Allah has done good to you. It ends by saying that Allah does not like those who spread corruption.

وَٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ[1] اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول[2] اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر[3] اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو[4]، یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے.

[1] یعنی اپنے مال کو ایسی جگہوں اور راہوں پر خرچ کر، جہاں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، اس سے تیری آخرت سنورے گی اور وہاں اس کا تجھے اجر وثواب ملے گا۔
[2] یعنی دنیا کے مباحات پر بھی اعتدال کے ساتھ خرچ کر۔ مباحات دنیا کیا ہیں؟ کھانا پینا، لباس، گھر اور نکاح وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تجھ پر تیرے رب کا حق ہے، اسی طرح تیرے اپنے نفس کا، بیوی بچوں کا اور مہمانوں وغیرہ کا بھی حق ہے، ہر حق والے کو اس کا حق دے۔
[3] اللہ نے تجھے مال دے کر تجھ پر احسان کیا ہے تو مخلوق پر خرچ کرکے ان پر احسان کر۔
[4] یعنی تیرا مقصد زمین میں فساد پھیلانا نہ ہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے بجائے بدسلوکی مت کر، نہ معصیتوں کا ارتکاب کر کہ ان تمام باتوں سے فساد پھیلتا ہے۔

قرآن 28:77Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Answering what is bad with what is good

This verse says that good and evil are not equal, and says to repel evil with what is good. It then says what will become of the one with whom there was enmity.

وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌ

نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی[1] ۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست.[2]

[1] بلکہ ان میں عظیم فرق ہے۔
[2] یہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہےکہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالو۔ یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ، غضب کا صبر کے ساتھ، بےہودگیوں کا جواب چشم پوشی کے ساتھ اور مکروہات (ناپسندیدہ باتوں کا) کا جواب برداشت اور حلم کے ساتھ دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گاکہ تمہارا دشمن، دوست بن جائے گا، دور دور رہنے والا قریب ہو جائے گا اور خون کاﭘیاسا، تمہارا گرویدہ اور جانثار ہو جائے گا۔

قرآن 41:34Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Submitting and doing good

Two of these verses join submitting to Allah with doing good. The first says that such a person will have their reward with their Lord, the second that they have “grasped the firmest handhold”.

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُۥٓ أَجْرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے[1] ۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔

[1] «أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ» کا مطلب ہے محض اللہ کی رضا کے لئے کام کرے اور«وَهُوَ مُحْسِنٌ» کا مطلب ہے اخلاص کے ساتھ پیغمبر آخرالزمان (صلى الله عليه وسلم) کی سنت کے مطابق۔ قبولیت عمل کے لئے یہ دو بنیادی اصول ہیں اور نجات اخروی ان ہی اصولوں کے مطابق کئےگئے اعمال صالحہ پر مبنی ہے، نہ کہ محض آرزوؤں پر۔

قرآن 2:112Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ

اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے[1] اور ہو بھی وه نیکو کار[2] یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا[3]، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے.

[1] یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے عمل کرے، اس کے حکم کی اطاعت اور اس کی شریعت کی پیروی کرے۔
[2] یعنی مامور بہ چیزوں کا اتباع اور منہیات کو ترک کرنے والا۔
[3] یعنی اللہ سے اس نے مضبوط عہد لےلیا کہ وہ اس کو عذاب نہیں کرے گا۔

قرآن 31:22Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

Kindness to parents and to those near

Two of these verses speak of kindness to parents. In the first, kindness to parents is joined to the command to worship none but Allah; the second follows the command to worship Allah and associate no partners with Him, and names others to whom kindness is to be shown.

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا.[1] s

[1] اس آیت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت، ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضح ہے۔ گویا ربوبیت الٰہی کے تقاضوں کے ساتھ اطاعت والدین کے تقاضوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ احادیث میں بھی اس کی اہمیت اور تاکید کو خوب واضح کر دیا گیا ہے، پھر بڑھاپے میں بطور خاص ان کے سامنے ”ہوں“ تک کہنے اور ان کو ڈانٹنے ڈپٹنے سے منع کیا ہے، کیونکہ بڑھاپے میں والدین تو کمزور، بے بس اور لا چار ہوجاتے ہیں، جب کہ اولاد جوان اور وسائل معاش پر قابض و متصرف ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جوانی کے دیوانے جذبات اور بڑھاپے کے سرد و گرم چشیدہ تجربات میں تصادم ہوتا ہے۔ ان حالات میں والدین کے ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ تاہم اللہ کے ہاں سرخ رو وہی ہوگا جو ان تقاضوں کو ملحوظ رکھے گا۔

قرآن 17:23Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3
وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے[1] اور پہلو کے ساتھی سے[2] اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز)[3] یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔[4]

[1] الْجَارِ الْجُنُبِ قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن سلوک کیا جائے، وہ رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار جس طرح کہ احادیث میں بھی اس کی بڑی تاکید بیان کی گئی ہے۔
[2] اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت وہم نشینی اختیار کرے۔ بلکہ اس کی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت (کوئی کام سیکھنے) کے لئے یا کسی کاروبارﯼ سلسلے میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے۔ (فتح القدیر)
[3] اس میں گھر، دوکان اور کارخانوﮞ، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے ہیں، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید احادیث میں آئی ہے۔
[4] فخر وغرور اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔“ (صحیح مسلم کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث نمبر 19) یہاں کبر کی بطور خاص مذمت سے یہ مقصد ہے کہ اللہ تعال۔ کی عبادت اور جن جن لوگوں سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اس پر عمل وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل کبر سے خالی ہوگا۔ متکبر اور مغرورشخص صحیح معنوں مین نہ حق عبادت ادا کر سکتا ہے اور نہ اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ حسن سلوک کا اہتمام۔

قرآن 4:36Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · version 1.1.3

From the library: a du‘ā about worshipping well

The Adhkār of the Prayers sheet in the library has a short du‘ā under the heading “Du‘ā of Mu‘ādh”. In the library’s meaning it asks Allah for help to remember Him, to thank Him and to worship Him well. The library cites it to Abū Dāwūd and an-Nasā’ī with the grade ṣaḥīḥ; its source line says the Prophet ﷺ told Mu‘ādh never to leave it after any prayer. In both books Muʿādh ibn Jabal reports that the Prophet ﷺ took him by the hand, told him that he loved him, and then taught him this du‘ā, in Abū Dāwūd’s wording; an-Nasā’ī’s begins “My Lord” and has “in every prayer”.

مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔

جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔

6معاذ کی دعا
1×
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
Allāhumma a‘innī ‘alā dhikrika wa shukrika wa ḥusni ‘ibādatik
اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔
ابو داؤد اور نسائی · صحیح — آپ ﷺ نے معاذ سے فرمایا کہ کسی بھی نماز کے بعد اسے ہرگز نہ چھوڑیں۔
نمازوں کے اذکار سے · پوری تحریر کھولیں

From the library: good character

Adab & Akhlāq opens with a card on good character, shown below. Its source line reads “Tirmidhī · ṣaḥīḥ”, followed by the words “The most complete of believers in faith is the best of them in character.” Both the card’s line and its source line rest on narrations in at-Tirmidhī: Abū ad-Dardā’ reports that nothing is heavier on the scale than good character, and Abū Hurayrah reports the saying the source line quotes. At-Tirmidhī calls 1162 and 2002 ḥasan ṣaḥīḥ, and 2003 gharīb by its chain, which later graders call ṣaḥīḥ or ḥasan. The rest of the card is the list of the cards that follow it.

مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔

جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔

آداب اور کردار
الْأَدَبُ
Al-adab
میزان میں حسنِ اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہیں۔ عبادت گھڑی کو سنوارتی ہے؛ اخلاق زندگی کو سنوارتا ہے۔
2 · کھانا اور پینا
3 · سونا اور جاگنا
4 · سلام اور اجازت لینا
5 · زبان
6 · مجلسیں
7 · بیمار، مسافر اور مہمان
8 · واجب الادا حقوق

مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:

8 · Rights owed
ترمذی · صحیح — “ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل مومن وہ ہے جو ان میں اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو۔”

نقطے دار کنارے والی سطریں عربی متن کا تلفظ ہیں، جو اعراب سے قاعدے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ مطبوعہ نسخوں کا حصہ نہیں اور ان کی نظرِ ثانی نہیں ہوئی: جہاں یہ عربی سے مختلف ہو، وہاں عربی ہی درست ہے۔

آداب و اخلاق سے · پوری تحریر کھولیں

References

Verses of the Qur’ān, by sūrah and verse, shown above: 2:112; 2:195; 3:134; 4:36; 7:56; 10:26; 12:90; 16:90; 16:128; 17:23; 18:30; 28:77; 29:69; 31:3; 31:22; 41:34; 51:16–19; 55:60.

Narrations, by collection and number as sunnah.com numbers them: al-Bukhārī by the numbering of Fatḥ al-Bārī; Muslim by Muḥammad Fuʾād ʿAbd al-Bāqī’s numbers, with the letter sunnah.com adds where it divides one; Abū Dāwūd, an-Nasā’ī and at-Tirmidhī by sunnah.com’s numbering.

  • The ḥadīth of Jibrīl, iḥsān as worshipping Allah as though you see Him: Ṣaḥīḥ Muslim 8a; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 50.
  • Iḥsān prescribed in all things: Ṣaḥīḥ Muslim 1955a.
  • The du‘ā of Muʿādh: Sunan Abī Dāwūd 1522; Sunan an-Nasā’ī 1303.
  • Nothing heavier on the scale than good character: Jāmiʿ at-Tirmidhī 2002 (ḥasan ṣaḥīḥ) and 2003 (gharīb by its chain).
  • The most complete of believers in faith: Jāmiʿ at-Tirmidhī 1162 (ḥasan ṣaḥīḥ).

From the Sabīl library: Adhkār of the Prayers, the entry “Du‘ā of Mu‘ādh”; Adab & Akhlāq, its opening card; the Forty Ḥadīth of an-Nawawī, linked, not quoted.

Where to go next