مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:
مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:
The du‘ā for breaking the fast, what it is broken with, and the Qur’ān’s verses on the fast, from the Sabīl library, each with its source.
اس مضمون کے الفاظ اے آئی نے سبیل لائبریری اور اس کے مآخذ سے لکھے ہیں، اور اے آئی ہی نے انہیں ان سے ملا کر جانچا ہے۔ ابھی کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی متون، ان کے معانی اور ان کے مآخذ لائبریری اور قرآن کے اپنے ہیں، اور بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہاں ہیں۔ اپنے حالات کے بارے میں فتوے کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔
یہ مضمون ابھی اس زبان میں نہیں لکھا گیا۔ یہ انگریزی میں دکھایا گیا ہے۔
3 اکتوبر، 2026 کو شائع ہوا21 اکتوبر، 2026 کو تازہ کیا گیا10 منٹ کا مطالعہ
The fast ends at nightfall, which the library’s card gives as sunset, and the narrations give the moment its words: a short du‘ā that the thirst has gone and the reward is certain, if Allah wills. This page explains that du‘ā and where the Sabīl library has it, what the library says the fast is broken with, and what the Qur’ān says about the fast and about supplication. Each entry is shown from the library with its Arabic, its meaning and the source and grade the library gives; the narrations are listed by number at the end. Under some verses the page also shows the notes of that edition; they are the edition’s words, not this page’s, and this page has not checked them. It does not say what breaks a fast or when exactly the fast ends at your place: those are rulings and local questions, and are for a scholar and your masjid.
The Qur’ān prescribes the fast as it was prescribed for those before, so that the believers may become righteous.
اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔[1]
[1] صِيَامٌ، صَوْمٌ (روزہ) کا مصدر ہے جس کے شرعی معنی ہیں، صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی سے ہم بستری کرنے سے، اللہ کی رضا کے لئے، رکے رہنا، یہ عبادت چوں کہ نفس کی طہارت اور تزکیہ کے لئے بہت اہم ہے، اس لئے اسے تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ اور تقویٰ انسان کے اخلاق وکردار کے سنوارنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
It sets the day of the fast between two edges: eating and drinking are allowed until the light of dawn is distinct from the darkness of night, and the fast is completed until nightfall.
روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لئے حلال کیا گیا، وه تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیده خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرمالیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ﻇاہر ہوجائے[1] ۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو[2] اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو[3]۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں، تم ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وه بچیں
[1] ابتدائے اسلام میں ایک حکم یہ تھا کہ روزہ افطار کرنے کے بعد عشا کی نماز یا سونے تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت تھی، سونے کے بعد ان میں سے کوئی کام نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ظاہر بات ہے یہ پابندی سخت تھی اور اس پر عمل مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ دونوں پابندیاں اٹھالیں اور افطار سے لے کر صبح صادق تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ «الرَّفَثُ» سے مراد بیوی سے ہم بستری کرنا ہے «الْخَيْطُ الأَبْيَضُ» سے صبح صادق، اور «الخَيْطُ الأسْوَدُ» (سیاہ دھاری) سے مراد رات ہے (ابن کثیر)
مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حالت جنابت میں روزہ رکھا جاسکتا ہے، کیوں کہ فجر تک اللہ تعالیٰ نے مذکورہ امور کی اجازت دی ہے اور صحیح بخاری وصحیح مسلم کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)
[2] یعنی رات ہوتے ہی (غروب شمس کے فوراً بعد) روزہ افطار کرلو۔ تاخیر مت کرو، جیسا کہ حدیث میں بھی روزہ جلد افطار کرنے کی تاکید اور فضیلت آئی ہے۔ دوسرا یہ کہ وصال مت کرو۔ وصال کا مطلب ہے کہ ایک روزہ افطار کئے بغیر دوسرا روزہ رکھ لینا۔ اس سے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نہایت سختی سے منع فرمایا ہے۔ (کتب حدیث)۔
[3] اعتکاف کی حالت میں بیوی سے مباشرت اور بوس وکنار کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ ملاقات اور بات چیت جائز ہے۔ «عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ» سے استدلال کیا گیا ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد ضروری ہے، چاہے مرد ہو یا عورت۔ ازواج مطہرات نے بھی مسجد میں اعتکاف کیا ہے۔ اس لئے عورتوں کا اپنے گھروں میں اعتکاف بیٹھنا صحیح نہیں۔ البتہ مسجد میں ان کے لئے ہر چیز کا مردوں سے الگ انتظام کرنا ضروری ہے، تاکہ مردوں سے کسی طرح کا اختلاط نہ ہو، جب تک مسجد میں معقول، محفوظ اور مردوں سے بالکل الگ انتظام نہ ہو، عورتوں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور عورتوں کو بھی اس پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک نفلی عبادت ہی ہے، جب تک پوری طرح تحفظ نہ ہو، اس نفلی عبادت سے گریز بہتر ہے۔ فقہ کا اصول ہے : «دَرْءُ المَفَاسِدِ يُقَدَّمُ عَلَى جَلْبِ الْمَصَالحِ»۔ ”مصالح کے حصول کے مقابلے میں مفاسد سے بچنا اور ان کو ٹالنا زیادہ ضروری ہے۔“
And in the middle of the verses on fasting it says that Allah is near and answers the call of the one who calls on Him.
اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں[1] اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے
[1] رمضان المبارک کے احکام ومسائل کے درمیان دعا کا مسئلہ بیان کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ رمضان میں دعا کی بھی بڑی فضیلت ہے، جس کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، خصوصاً افطاری کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتلایا گیا ہے (مسند أحمد، ترمذي ، نسائي، ابن ماجه بحواله ابن كثير) تاہم قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ ان آداب وشرائط کو ملحوظ رکھا جائے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ جن میں سے دو یہاں بیان کئے گئے ہیں: ایک اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان اور دوسرا اس کی اطاعت وفرمانبرداری۔ اسی طرح احادیث میں حرام خوراک سے بچنے اور خشوع وخضوع کا اہتمام کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
The Hijri Companion set of the Pocket Companion has a card headed “Ramaḍān”, in three parts.
مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔
جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔
مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:
مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:
The first part, “The month”, gives the month in one line: the fast, tarāwīḥ, seeking Laylat al-Qadr, iʿtikāf and Zakāt al-Fiṭr, each with the time the card gives it. The library cites the line to al-Bukhārī and Muslim with the grade ṣaḥīḥ.
The second, “Breaking the fast”, is the du‘ā of ifṭār: one short sentence saying that the thirst has gone, the veins are moistened, and the reward is certain, if Allah wills. The library cites it to Abū Dāwūd with the grade ḥasan. In that narration Ibn ʿUmar reports that the Prophet ﷺ said it when he broke his fast. The source line ends with the words “break on dates, or water”.
The third, “Laylat al-Qadr”, is a du‘ā that calls on Allah as Most Forgiving, who loves forgiveness, and asks for forgiveness. The library cites it to at-Tirmidhī and Ibn Mājah with the grade ṣaḥīḥ. At-Tirmidhī calls his narration ḥasan ṣaḥīḥ; of the later scholars the app’s ḥadīth dataset names, three grade each narration ṣaḥīḥ or ḥasan ṣaḥīḥ and one, Zubayr ʿAlī Zaʾī, grades both weak. In both, ʿĀ’ishah asks the Prophet ﷺ what she should say on that night if she knew it or came upon it, and is taught the du‘ā; Ibn Mājah’s wording is the card’s, and at-Tirmidhī’s has one word more. The night itself has an article of its own.
The Ramaḍān poster sets the fasting day out in numbered rows. Row 04 is headed “Maghrib — break the fast at once”, and has the same du‘ā with its meaning, then two more sentences: what the fast is broken with, fresh dates, or dried, or water; and a sentence on the supplication of the one who is fasting, shown with the row below.
مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔
جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔
مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:
نقطے دار کنارے والی سطریں عربی متن کا تلفظ ہیں، جو اعراب سے قاعدے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ مطبوعہ نسخوں کا حصہ نہیں اور ان کی نظرِ ثانی نہیں ہوئی: جہاں یہ عربی سے مختلف ہو، وہاں عربی ہی درست ہے۔
The row’s source line gives Abū Dāwūd and at-Tirmidhī, each with the grade ḥasan. The narration of Anas in both books says that the Prophet ﷺ broke his fast before praying with fresh dates, and if there were none with dried dates, and if there were none with a few sips of water. At-Tirmidhī has a narration of three whose supplication is not turned back, the fasting person among them. In its Arabic it is the fasting person until he breaks his fast; the English on sunnah.com has it at the time he breaks it, which is the wording of another narration of at-Tirmidhī’s, whose chain he calls not strong. At-Tirmidhī calls the first ḥasan, which is the grade the poster gives; later scholars differ on it, and some of them grade it weak.
The heading’s “at once” is the poster’s own. The narration of Sahl ibn Saʿd in al-Bukhārī and Muslim says that people remain on the right path as long as they hasten the breaking of the fast. How the moment of sunset is fixed where you are is a question of the local timetable: see the Ramaḍān screen, below.
The poster’s row 03 is headed “Through the day — guard the tongue”. It says what to say to someone who abuses you or picks a quarrel, a short phrase saying that one is fasting, and ends with a sentence about false speech. The library cites the row to al-Bukhārī with the grade ṣaḥīḥ. In al-Bukhārī, Abū Hurayrah reports both: that the one fasting, if someone fights him or abuses him, should say twice that he is fasting; and that Allah has no need of the food and drink given up by one who does not give up false speech and acting on it.
مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔
جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔
مطبوعہ انگریزی، ہمیشہ دکھائی جاتی ہے:
نقطے دار کنارے والی سطریں عربی متن کا تلفظ ہیں، جو اعراب سے قاعدے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ مطبوعہ نسخوں کا حصہ نہیں اور ان کی نظرِ ثانی نہیں ہوئی: جہاں یہ عربی سے مختلف ہو، وہاں عربی ہی درست ہے۔
The library’s Ramaḍān cards also have a card headed “Suḥūr & ifṭār”. The library’s own checking has not settled a question about one of its lines, so it is linked here and not quoted.
Verses of the Qur’ān, by sūrah and verse, shown above: 2:183; 2:186; 2:187.
Narrations, by collection and number as sunnah.com numbers them: al-Bukhārī by the numbering of Fatḥ al-Bārī; Muslim by Muḥammad Fuʾād ʿAbd al-Bāqī’s numbers, with the letter sunnah.com adds where it divides one; Abū Dāwūd, al-Tirmidhī and Ibn Mājah by sunnah.com’s numbering. The library names the collection under each entry; the numbers are the narrations described above.
From the Sabīl library: the Pocket Companion, the card “Ramaḍān”; the Ramaḍān poster, rows 03 and 04; the Ramaḍān cards, the card “Suḥūr & ifṭār”, linked, not quoted.
سبیل کا میل باکس تیار کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی کوئی اسے پڑھنے لگے گا، یہ مضمون تصحیح یا رائے بھیجنے کا طریقہ بتا دے گا۔