Muhammad
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَنصُرُوا۟ ٱللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ 7 وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَـٰلَهُمْ 8 ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَـٰلَهُمْ 9
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9)
[7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔
[8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔
[9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘