Muhammad
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۖ وَلِلْكَـٰفِرِينَ أَمْثَـٰلُهَا 10 ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَأَنَّ ٱلْكَـٰفِرِينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ 11
کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پھر دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ تباہی ڈال دی اللہ نے ان پر، اور کافروں کے لیے اس جیسی سزائیں ہیں (10) یہ اس لیے کہ بلاشبہ اللہ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، اور بے شک کافر لوگ، نہیں کوئی مددگار ان کا (11)
[10] رسول مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں؟ ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے انجام کو بدترین انجام پائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہو گئے، ان کے کفر اور تکذیبِ انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کر دیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے، اور انھیں بری سزائیں ملتی ہیں، رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انھیں بے پایاں ثواب عطا کرتا ہے۔
[11]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوۡلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والی و مددگار ہے۔‘‘ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سر پرستی کی، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ ﴿ وَاَنَّ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سر پرستی کے تعلق کو قطع کر دیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمت کے دروازے بند کر لیے۔ ﴿ لَا مَوۡلٰى لَهُمۡ﴾ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سر پرست تو طاغوت ہیں جو انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔