Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
Sourate 9

At-Tawba

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Verset 37

إِنَّمَا ٱلنَّسِىٓءُ زِيَادَةٌ فِى ٱلْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُحِلُّونَهُۥ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامًا لِّيُوَاطِـُٔوا۟ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّوا۟ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوٓءُ أَعْمَـٰلِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَـٰفِرِينَ 37

بے شک مہینے کو پیچھے ہٹا دینا تو زیادتی ہے کفر میں، گمراہ کیے جاتے ہیں اس کی وجہ سے کافر لوگ، حلال کرلیتے ہیں وہ اس کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اس کو (دوسرے) سال تاکہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جو حرام ٹھہرائے اللہ نے۔ پس وہ حلال کرلیتے ہیں جس کو حرام کیا اللہ نے، مزین کردیے گئے ان کے لیے برے عمل ان کےاور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(37)

[37]﴿النَّسِيۡٓءُ﴾’’تاخیر‘‘ وہ ہے جو اہل جاہلیت حرام مہینوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ ان کی جملہ بدعات میں سے ایک بدعت تھی کہ جب انھیں حرام مہینوں میں سے کسی مہینے میں لڑائی کی ضرورت پڑتی تو وہ… اپنی فاسد آراء کے مطابق… سمجھتے تھے کہ حرام مہینوں کی گنتی کو پورا رکھا جائے جن کے اندر لڑائی حرام ہے۔ اور یہ کہ وہ بعض حرام مہینوں کو موخر یا مقدم کر دیتے تھے اور اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے کسی مہینے کو حرام بنا لیتے تھے۔ جب ان حرام کی جگہ حلال مہینوں کو مقرر کر دیتے تو حرام مہینوں میں لڑائی کو حلال کر لیتے اور حلال مہینوں کو حرام قرار دے دیتے۔ ان کا یہ رویہ… جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے… ان کی طرف سے مزید کفر اور گمراہی کا رویہ ہے کیونکہ اس میں ایسے امور ہیں جن سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔(۱) انھوں نے ( نسئی)کو اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین قرار دے دیا حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں ۔(۲)انھوں نے دین کو بدل ڈالا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے ڈالا۔(۳)انھوں نے بزعم خود، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ان کے دین کو گڈ مڈ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے دین میں حیلہ سازی اور فریب کاری کو استعمال کیا۔(۴) شریعت کی مخالفت میں بار بار کیے جانے والے اعمال پر دوام سے لوگوں کے دلوں سے ان کی قباحت زائل ہو جاتی ہے۔ بلکہ بسااوقات ایسے کام اچھے محسوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے جو خطرناک نتائج نکلتے ہیں ، محتاج وضاحت نہیں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُحِلُّوۡنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوۡنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــُٔوۡا۠ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر، حلال کر لیتے ہیں اس مہینے کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں اس کو دوسرے برس تاکہ پوری کر لیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرمت والا قرار دیا ہے‘‘ یعنی حرام مہینوں کے عدد میں موافقت کریں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے انھیں حلال قرار دے لیں ﴿ زُيِّنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ اَعۡمَالِهِمۡ﴾ ’’ان کے برے اعمال ان کے لیے مزین کردیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی شیاطین نے ان کے سامنے ان کے برے اعمال کو مزین کر دیا اور ان کے دلوں میں جو عقائد مزین ہوگئے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو کفر کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور تکذیب نے ان کے دلوں میں جڑ پکڑ لی ہے ، لہٰذا ان کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آجائیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔