Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naba
Sourate 78

An-Naba

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Versets 6–16

أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًا 6 وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًا 7 وَخَلَقْنَـٰكُمْ أَزْوَٰجًا 8 وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا 9 وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًا 10 وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًا 11 وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا 12 وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا 13 وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا 14 لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّا وَنَبَاتًا 15 وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا 16

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)

[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟