Al-Ma'aarij
Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.
Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21
فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ 36 عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ 37 أَيَطْمَعُ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ 38 كَلَّآ ۖ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ 39
پس کیا ہے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ آپ کی طرف تیزی سے دوڑے آ رہے ہیں (36) دائیں سے اور بائیں سے گروہ در گروہ؟ (37) کیا طمع رکھتا ہے ہر شخص ان میں سے یہ کہ داخل کیا جائے گا وہ نعمت والی جنت میں؟ (38) ہرگز نہیں! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ہے انھیں اس چیز سے کہ وہ (اس کو) جانتے ہیں(39)
[39-36] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَمَالِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قِبَلَكَ مُهۡطِعِيۡنَ﴾ ’’پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمھاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘ یعنی بڑی سرعت سے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيۡنَ﴾’’دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہوکر۔‘‘ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے اسی پر خوش ہے۔﴿ اَيَطۡمَعُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّدۡخَلَ جَنَّةَ نَعِيۡمٍ﴾ ’’کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کس سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انھوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا؟ بنابریں فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ان کی آرزؤ ں کے مطابق ہو گا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّؔمَّا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پس وہ بہت کمزور ہیں، وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں، وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔