Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · As-Saaffaat
Sourate 37

As-Saaffaat

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Versets 75–82

وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ 75 وَنَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ 76 وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلْبَاقِينَ 77 وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ 78 سَلَـٰمٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِى ٱلْعَـٰلَمِينَ 79 إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ 80 إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ 81 ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ 82

اور البتہ تحقیق پکارا ہمیں نوح نے، پس البتہ خوب قبول کرنے والے ہیں(ہم فریاد کو)(75) اور نجات دی ہم نے اس کو اور اس کےاہل کو بہت بڑی پریشانی سے (76) اورکر دیا ہم نے اس کی اولاد کو، انھی کو باقی رہنے والا (77) اور چھوڑا ہم نے اس پر پیچھے آنے والوں میں (78) کہ سلام ہو نوح پر، جہانوں میں(79) بلاشبہ ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (80) بے شک وہ تھا ہمارے مومن بندوں میں سے (81) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں کو (82)

[82-75] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول، حضرت نوحu کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ وہ اس دعوت سے دور بھاگتے رہے تب حضرت نوحu نے اپنے رب کو پکارتے ہوئے دعا کی:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا ﴾(نوح: 71؍26) ’’اے میرے رب! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ﴾(المؤمنون: 23/26) ’’اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾ ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ و زاری کو سنتے ہیں اور خوب جواب دیتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا قبول فرمائی۔ یہ قبولیت نوحu کی درخواست سے مطابقت رکھتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نوحu اور آپ کے گھر والوں کو اس کرب عظیم سے نجات دی اور تمام کفار کو سیلاب میں غرق کر دیا۔ آپ کی نسل اور اولاد کو تسلسل سے باقی رکھا، چنانچہ تمام انسان حضرت نوحu کی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے آپ کو دائمی ثنائے حسن سے سرفراز فرمایا کیونکہ آپ نے نہایت احسن طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور مخلوق کے ساتھ احسان کیا اور محسنین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے احسان کے مطابق دنیا میں ان کی ثنائے حسن کو پھیلاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ ایمان بندوں کے لیے بلند ترین منزل ہے، جو تمام شرائع اور اس کے اصول و فروع پر مشتمل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی، ان کے ایمان کی بنا پر مدح و ثنا کی ہے۔