Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · Saba
Sourate 34

Saba

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Versets 28–30

وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ 28 وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ 29 قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَـْٔخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ 30

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30)

[28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔

[29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں!

[30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔