Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qasas
Sourate 28

Al-Qasas

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Verset 56

إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ 56

بلاشبہ آپ نہیں ہدایت دے سکتے جس کو آپ چاہیں لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو (56)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ… اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ … کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کر دیتا ہے اور کون ہدایت عطا كيے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾(الشوریٰ:42؍52) ’’اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کررہے ہیں ‘‘ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے ہدایت کا اثبات تو یہ ہدایت بیان و ارشاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ صراط مستقیم کو واضح کرتے ہیں لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں اور لوگوں کو اس پر گامزن کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ آیا آپ دلوں میں ایمان پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فعل کی توفیق عطا کر سکتے ہیں … تو حاشا و کلا ایسا ہرگز نہیں … ایسا ہرگز نہیں ۔ لہذا اگر آپ اس پر قادر ہوتے تو آپ اس شخص کو ضرور ہدایت سے سرفراز فرماتے جس نے آپ پر احسان فرمایا تھا، جس نے آپ کو اپنی قوم سے بچایا اور آپ کی مدد فرمائی … یعنی آپ کے چچا ابو طالب … مگر آپ نے ابو طالب کو دین کی دعوت دے کر اور کامل خیر خواہی کے ساتھ ان پر احسان کیا اور یہ اس احسان سے بہت زیادہ ہے جو آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔