Al-Anbiyaa
Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.
Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ 42 أَمْ لَهُمْ ءَالِهَةٌ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ 43 بَلْ مَتَّعْنَا هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِى ٱلْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَآ ۚ أَفَهُمُ ٱلْغَـٰلِبُونَ 44
کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔
[43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
[44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔