Maryam
Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.
Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21
فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَٱلشَّيَـٰطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا 68 ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى ٱلرَّحْمَـٰنِ عِتِيًّا 69 ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِٱلَّذِينَ هُمْ أَوْلَىٰ بِهَا صِلِيًّا 70
پس قسم ہے آپ کے رب کی، البتہ ہم ضرور اکٹھا کریں گے انھیں ہمراہ شیطانوں کے، پھر البتہ ہم ضرور حاضر کریں گے انھیں اردگرد جہنم کے، گھٹنوں کے بل (68) پھر البتہ ہم ضرور کھینچ لیں گے ہرگروہ میں سے جو نسا ان کا زیادہ سخت تھا، رحمٰن کے خلاف سرکشی میں (69) پھر یقینا ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو کہ وہ زیادہ لائق ہیں جہنم میں داخل ہونے کے (70)
[68] اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ﴾ یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناکی کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلند و برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے۔
[69] اس لیے ارشاد فرمایا: ﴿ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا ﴾ یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں کو نکال لیں گے جو ظلم، کفر اور سرکشی میں اشتراک رکھتے ہیں اور (عُتُوّ) وہ شخص ہے جو ان میں سے سب سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف اس کو مقدم کیا جائے گا جو گناہ میں اس سے کم تر ہو گا پھر اسے جو اس سے کم تر ہوگا علیٰ ہذا القیاس۔ اور وہ اس حال میں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے ہوں گے۔ ان میں سے آخری گروہ اولین گروہ سے کہے گا:﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾(الاعراف:7؍38) ’’اے ہمارے رب! یہی لوگ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا پس انھیں جہنم کا دوگنا عذاب دے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ ﴾(الاعراف:7؍39) ’’پہلا گروہ آخری گروہ سے کہے گا تمھیں ہم پر کچھ بھی فضیلت حاصل نہیں ۔‘‘
[70] اور یہ سب کچھ اس کے عدل و حکمت اور اس کے لامحدود علم کے تابع ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا ﴾ یعنی ہمارا علم ہر اس شخص کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو آگ میں جھونکے جانے کا زیادہ مستحق ہے، ہمیں ان کے بارے میں علم ہے اور ہم ان کے اعمال، ان اعمال کے استحقاق اور ان کے عذاب کی مقدار بھی جانتے ہیں ۔