Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yunus
Sourate 10

Yunus

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Versets 59–60

قُلْ أَرَءَيْتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَـٰلًا قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى ٱللَّهِ تَفْتَرُونَ 59 وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ 60

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جو نازل کیا ہے اللہ نے واسطے تمھارے رزق، پس بنایا تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال، کہہ دیجیے! کیا اللہ نے حکم دیاہے واسطے تمھارے یا اوپر اللہ کے افتراء باندھتے ہو تم؟ (59)اور کیا گمان ہے ان لوگوں کاجو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، روز قیامت کے بارے میں ؟ بلاشبہ اللہ یقینا بڑے فضل والا ہے اوپر لوگوں کے لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (60)

[59] مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لیے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کیے تھے، ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ! اللہ نے تمھارے لیے جو روزی اتاری‘‘ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذریعۂ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ ﴿فَجَعَلۡتُمۡ مِّؔنۡهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا﴾ ’’پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال‘‘ یعنی اس فاسد قول پر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’کیا اللہ نے تم کو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں ۔

[60]﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن‘‘ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلَى اللّٰهِ وُجُوۡهُهُمۡ مُّسۡوَدَّةٌ﴾(الزمر: 39؍60) ’’اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے نازل کیا۔