پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Az-Zalzala
سورهٔ ۹۹

Az-Zalzala

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱–۸

إِذَا زُلْزِلَتِ ٱلْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ۱ وَأَخْرَجَتِ ٱلْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ۲ وَقَالَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا لَهَا ۳ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ۴ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا ۵ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ ٱلنَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا۟ أَعْمَـٰلَهُمْ ۶ فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُۥ ۷ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُۥ ۸

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔

[3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟

[4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔

[6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔

[7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔