پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
سورهٔ ۹

At-Tawba

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۵۰–۵۱

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا۟ قَدْ أَخَذْنَآ أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا۟ وَّهُمْ فَرِحُونَ ۵۰ قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَىٰنَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ۵۱

اگر پہنچتی ہے آپ کو بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچتی ہے آپ کو کوئی مصیبت تو کہتے ہیں وہ تحقیق ہم نے تو اختیار کر لی تھی (احتیاط) اپنے معاملے میں پہلے ہی اور پھرتے ہیں وہ شاداں و فرحاں(50) کہہ دیجیے! ہرگز نہیں پہنچے گا ہمیں مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے، وہی ہے کار ساز ہمارااور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن(51)

[50] اللہ تبارک و تعالیٰ، منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں ..... فرماتا ہے ﴿ اِنۡ تُصِبۡكَ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی‘‘مثلاً: فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیابی ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو بری لگتی ہے۔‘‘ یعنی ان کو غمزدہ کر دیتی ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكَ مُصِيۡبَةٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت‘‘مثلاً: آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی ﴿ يَّقُوۡلُوۡا ﴾ ’’تو کہتے ہیں ۔‘‘ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں ﴿ قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے ﴿ وَيَتَوَلَّوۡا وَّهُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾ ’’اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے‘‘ یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں ۔

[51] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّنۡ يُّصِيۡبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا﴾ ’’کہہ دیجیے! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ هُوَ مَوۡلٰىنَا﴾ ’’وہی ہمارا کارساز ہے۔‘‘ یعنی وہ ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پر‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر ﴿ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یارومددگار رہے گا، دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔