Al-Mursalaat
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ۲۹ ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ ظِلٍّ ذِى ثَلَـٰثِ شُعَبٍ ۳۰ لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِى مِنَ ٱللَّهَبِ ۳۱ إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍ كَٱلْقَصْرِ ۳۲ كَأَنَّهُۥ جِمَـٰلَتٌ صُفْرٌ ۳۳ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ۳۴
(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34)
[34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘