پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-An'aam
سورهٔ ۶

Al-An'aam

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۰۵–۱۰۸

وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَلِيَقُولُوا۟ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ۱۰۵ ٱتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ ۱۰۶ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكُوا۟ ۗ وَمَا جَعَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ ۱۰۷ وَلَا تَسُبُّوا۟ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا۟ ٱللَّهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ۱۰۸

اور اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات اور تا کہ کہیں وہ پڑھاہے تو نے (کسی سے) اور تا کہ ہم بیان کریں وہ، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (105) پیروی کریں اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، نہیں کوئی معبود مگر وہی اور اعراض کیجیے مشرکین سے (106) اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر محافظ اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمے دار(107) اور مت گالی دو ان کو جنھیں پکارتے ہیں وہ اللہ کے سوا، پس گالی دیں گے وہ( بھی) اللہ کو حد سے گزرتے ہوئے، بغیر علم کے، اسی طرح مزین کر دیا ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل، پھر طرف اپنے رب کی ان کی واپسی ہے، پس وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (108)

[108] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لیے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لیے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لیے جوش میں آجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے۔ وہ اعمال انھیں اچھے دکھائی دیتے ہیں لہذا وہ ہر طریقے سے ان کی مدافعت کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر مسلمان ان کے معبودوں کو گالی دیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھی گالی دیے بغیر نہیں رہتے جس کی عظمت ابرار و فجار کے دلوں میں راسخ ہے۔ مگر تمام مخلوق کو انجام کار قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے اور جو وہ اچھا برا کام کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس شرعی قاعدہ پر دلیل ہے کہ وسائل کا اعتبار ان امور کے ذریعے سے کیا جاتا ہے جن تک یہ پہنچاتے ہیں چنانچہ امور محرمہ کی طرف لے جانے والے وسائل و ذرائع حرام ہیں ، خواہ وہ فی نفسہ حلال ہی کیوں نہ ہوں ۔