پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Waaqia
سورهٔ ۵۶

Al-Waaqia

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۴۹–۵۷

قُلْ إِنَّ ٱلْأَوَّلِينَ وَٱلْـَٔاخِرِينَ ۴۹ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَـٰتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ۵۰ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلْمُكَذِّبُونَ ۵۱ لَـَٔاكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ ۵۲ فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ ۵۳ فَشَـٰرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْحَمِيمِ ۵۴ فَشَـٰرِبُونَ شُرْبَ ٱلْهِيمِ ۵۵ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ ٱلدِّينِ ۵۶ نَحْنُ خَلَقْنَـٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ۵۷

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57)

[49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

[53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔

[54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘

[57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔