Qaaf
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ۳۸ فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ ٱلْغُرُوبِ ۳۹ وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَـٰرَ ٱلسُّجُودِ ۴۰
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، چھ دن میں، اور نہیں چھوا ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے (38) پس آپ صبر کریں اس پر جو وہ کہتے ہیں، اور تسبیح کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع شمس سے اور پہلے اس کے غروب سے (39) اور کچھ حصہ رات میں، پس آپ تسبیح کریں اس کی اور سجود (نمازوں) کے بعد بھی (40)
[38] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ ﴿ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو ان کے دمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا)۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا، اور نہ اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی اور نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔
[40،39]﴿ فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجیے۔‘‘ وہ آپ کی مذمت کرتے ہیں اور آپ جو کتاب لے کر آئے ہیں اس کی تکذیب کرتے ہیں، آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے رب کی اطاعت کیجیے اور صبح ، شام، رات کے اوقات میں اور نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نفس کو تسلی دیتا، اس کو سکون عطا کرتا اور صبر کو آسان بناتا ہے۔