پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ahqaf
سورهٔ ۴۶

Al-Ahqaf

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۵–۱۶

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ إِحْسَـٰنًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُۥ وَفِصَـٰلُهُۥ ثَلَـٰثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـٰلِحًا تَرْضَىٰهُ وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّيَّتِىٓ ۖ إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ۱۵ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۟ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔاتِهِمْ فِىٓ أَصْحَـٰبِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ ٱلصِّدْقِ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ۱۶

اور وصیت کی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اٹھایا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا اس نے اسے تکلیف سے اور اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے حتیٰ کہ جب پہنچا وہ اپنی جوانی (کی قوتوں) کو اور پہنچا چالیس برس کو کہا اس نے اے میرے رب! توفیق دے تو مجھے یہ کہ شکر کروں میں تیری (اس) نعمت کا وہ جو تونے کی مجھ پر اور میرے والدین پر، اور یہ کہ عمل کروں میں نیک کہ تو پسند کرے اس کو، اور اصلاح کر تو میرے لیے میری اولاد میں، بلاشبہ میں نے توبہ کی تیری طرف، اور بلاشبہ میں مسلمانوں میں سے ہوں (15) یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم قبول کرتے ہیں ان سے اچھے عمل جو کیے انھوں نے اورہم درگزر کرتے ہیں ان کی برائیوں سے، (وہ ہوں گے)جنتیوں میں، وعدہ ہے سچا جو تھے وہ وعدہ دیے جاتے (16)

[15] یہ اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور والدین کی قدر و توقیر ہے کہ اس نے اولاد کو حکم دیا اور ان کو اس امر کا پابند کیا کہ وہ نرم و ملائم بات، مال و نفقہ اور دیگر طریقوں سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، پھر اس کے سبب موجب کی طرف اشارہ کیا، پھر اس مرحلے کا ذکر فرمایا جس میں ماں اپنے بچے کو اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس حمل کے دوران تکالیف برداشت کرتی ہے، پھر ولادت کے وقت بہت بڑی مشقت کا سامنا کرتی ہے،پھر رضاعت اور پرورش کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ مذکورہ مشقت تھوڑی سی مدت، گھڑی دو گھڑی کے لیے نہیں بلکہ وہ مدت یعنی ﴿ وَحَمۡلُهٗ وَفِصٰلُهٗ﴾ اس کو پیٹ میں اٹھانے اور اس کی رضاعت کا طویل عرصہ ﴿ ثَلٰثُوۡنَ شَهۡرًا﴾ ’’تیس مہینے ہے۔‘‘ جن میں سے غالب طور پر نو ماہ کے لگ بھگ حمل اور باقی رضاعت کے لیے ہیں۔اس آیت کریمہ کو اللہ تعالی کے ارشاد: ﴿ وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ﴾(البقرۃ:2؍233)’’اور مائیں اپنی اولاد کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔‘‘ کے ساتھ ملا کر استدلال کیا جاتا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ رضاعت کی مدت کو، جو کہ دو سال ہے، تیس مہینوں میں سے نکال دیا جائے تو حمل کی مدت چھ ماہ بچتی ہے۔﴿ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ یعنی وہ اپنی قوت و شباب کی انتہا اور اپنی عقل کے کمال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ وَبَلَغَ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ ’’اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے توفیق دے۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے الہام کر اور مجھے توفیق عطا کر ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾’’کہ تونے جو احسان مجھ پر اور میرے والدین پر کیے ہیں ان کا شکر گزار رہوں۔‘‘ یعنی دین اور دنیا کی نعمتیں اور اس کا شکر کرنا یہ ہے کہ ان نعمتوں کو، منعم کی اطاعت میں صرف کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ان نعمتوں کی شکر گزاری سے عجز کے اعتراف اور ان نعمتوں پر اللہ تعالی کی حمدوثنا میں کوشاں رہا جائے۔والدین کو نعمتوں سے نوازا جانا، ان کی اولاد کو ان نعمتوں کو نوازا جانا ہے کیونکہ ان نعمتوں اور ان کے اسباب و آثار کا اولاد تک پہنچنا لابدی امر ہے، خاص طور پر دین کی نعمت، کیونکہ علم و عمل کے ذریعے سے والدین کا نیک ہونا اولاد کے نیک ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ﴾ ’’اور ایسے نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان اعمال کا جامع ہو جو اسے نیک بناتے ہیں اور ان اعمال سے پاک ہو جو اسے خراب کرتے ہیں، یہی وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالی کو پسند ہیں اور جن کو اللہ تعالی قبول فرما کر ان پر ثواب عطا کرتا ہے۔﴿ وَاَصۡلِحۡ لِيۡ فِيۡ ذُرِّيَّتِيۡ﴾ ’’اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا۔‘‘ جب اس نے اپنے لیے نیکی کی دعا کی تو اس نے اپنی اولاد کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ تعالی ان کے احوال کو درست فرما دے۔نیز ذکر فرمایا کہ اولاد کی نیکی کا فائدہ والدین کی طرف لوٹتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَاَصۡلِحۡ لِيۡ﴾’’اور میرے لیے اصلاح کردے۔‘‘﴿ اِنِّيۡ تُبۡتُ اِلَيۡكَ﴾ میں گناہ اور معاصی سے تیرے پاس توبہ کرتا ہوں اور تیری اطاعت کی طرف لوٹتا ہوں ﴿ وَاِنِّيۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ اور بے شک میں تیرے مطیع بندوں میں سے ہوں۔

[16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ وہ لوگ جن کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡهُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا﴾ ’’یہی وہ ہیں، جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے۔‘‘ اس سے مراد نیکیاں ہیں، وہ اس کے علاوہ بھی نیک عمل کرتے ہیں۔ ﴿ وَنَتَجَاوَزُ عَنۡ سَيِّاٰتِهِمۡ فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ الۡجَنَّةِ﴾ ’’اور ان کے گناہوں سے تجاوز فرمائیں گے (یہی) اہل جنت میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جملہ اہل جنت کے ساتھ، سو ان کو بھلائی اور مطلوب محبوب حاصل ہو گا، شر اور ناپسندیدہ امور زائل ہو جائیں گے ﴿ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی یہ وعدہ جو ہم نے ان کے ساتھ کیا تھا، سب سے زیادہ سچی ہستی کا وعدہ ہے، جو کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتی۔