پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ad-Dukhaan
سورهٔ ۴۴

Ad-Dukhaan

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۴۳–۵۰

إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ ۴۳ طَعَامُ ٱلْأَثِيمِ ۴۴ كَٱلْمُهْلِ يَغْلِى فِى ٱلْبُطُونِ ۴۵ كَغَلْىِ ٱلْحَمِيمِ ۴۶ خُذُوهُ فَٱعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ ۴۷ ثُمَّ صُبُّوا۟ فَوْقَ رَأْسِهِۦ مِنْ عَذَابِ ٱلْحَمِيمِ ۴۸ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْكَرِيمُ ۴۹ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمْتَرُونَ ۵۰

بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)

[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔