Ad-Dukhaan
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ ۳۴ إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ ۳۵ فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ۳۶ أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَـٰهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ ۳۷
بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)
[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔
[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔