پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nisaa
سورهٔ ۴

An-Nisaa

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیهٔ ۸۷

ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًا ۸۷

اللہ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر وہی، البتہ ضرور جمع کرے گا وہ تم کو دن قیامت کے نہیں ہے شک اس میں اور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے، بات میں؟(87)

[87] اللہ تعالیٰ وحدانیت میں اپنی انفرادیت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات اور اوصاف میں کامل ہے نیز اس لیے کہ وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں اور ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے میں متفرد ہے اور یہ امر اس کی عبادت اور عبودیت کی تمام انواع کے ذریعے سے اس کے تقرب کو مستلزم ہے۔ اس لیے اس نے محل جزا کے وقوع یعنی روز قیامت پر قسم کھائی ہے فرمایا: ﴿ لَيَجۡمَعَنَّـكُمۡ ﴾ ’’وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے اولین و آخرین کو ایک ہی جگہ پر جمع کرے گا ﴿ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’قیامت کے دن‘‘ یعنی عقلی اور سمعی دلیل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے قیامت میں کوئی شک نہیں۔ رہی عقلی دلیل تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ زمین کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندگی عطا کرتا ہے۔ امکان کے اعتبار سے پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے۔حکمت الٰہی انسان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ قطعی طور پر جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا۔ کہ وہ زندگی حاصل کریں گے اور بس مر جائیں گے۔ (اور اس کے بعد کچھ نہیں ہو گا، ایسا نہیں ہو گا، بلکہ روز قیامت حساب ہو گا) رہی سمعی اور نقلی دلیل تو سب سے زیادہ سچی ہستی نے اس کے وقوع کے بارے میں خبر دی ہے بلکہ اس پر قسم کھائی ہے۔ ﴿ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا﴾ ’’اللہ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہﷺکو اس حقیقت پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ زَعَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ لَّنۡ يُّبۡعَثُوۡا١ؕ قُلۡ بَلٰى وَرَبِّيۡ لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡ١ؕ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(التغابن : 64؍7) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، سمجھتے ہیں کہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا نہیں جائے گا کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم! تمھیں ضرور اٹھایا جائے گا اور جو اعمال تم نے کیے ہیں ان کے بارے میں تمھیں ضرور بتایا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا﴾ اور ﴿وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا ﴾ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات اس کی خبریں اور اس کے اقوال صداقت کے اعلیٰ مراتب بلکہ اعلیٰ ترین مراتب پر ہیں۔لہٰذا ہر وہ بات جو عقائد، علوم اور اعمال کے بارے میں کہی گئی ہو اگر وہ اللہ تعالیٰ کی خبر کے خلاف ہے تو وہ باطل ہے کیونکہ یہ امور یقینی طور پر سچی خبر کے متناقض ہیں ان کا حق ہونا ممکن ہی نہیں۔