Saad
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ ۱۲ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَـٰبُ لْـَٔيْكَةِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ ۱۳ إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۱۴ وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ ۱۵
جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15)
[15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔