Aal-i-Imraan
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ ۹۸ قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُهَدَآءُ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۹۹
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ آیتوں کے اللہ کی؟ اور اللہ گواہ ہے ان پر جو تم کرتے ہو(98) کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! کیوں روکتے ہو تم اللہ کے راستے سے، اس کو جو ایمان لایا، ڈھونڈتے ہو تم اس (راہ) میں کجی، جب کہ تم گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ غافل ان سے جو تم کرتے ہو(99)
[99,98] اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو زجر و توبیخ فرماتا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جنھیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے رحمت بنایا کہ ان کی رہنمائی میں اللہ تک پہنچ سکیں، اور ان کی مدد سے تمام اہم مقاصد اور مفید علوم حاصل کریں۔ ان کافروں نے ان کا انکار بھی کیا، ان پر ایمان لانے والوں کو روکا، ان میں تحریف کی، انھیں اصل مفہوم سے پھیرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ان جرائم کو تسلیم کرتے ہیں۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ان کا یہ کام بہت بڑا کفر ہے، جس کی سزا بہت سخت ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا، اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم انھیں عذاب پر مزید عذاب دیں گے کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ یہاں انھیں یہ فرما کر تنبیہ کی۔ ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ بلکہ تمھارے اعمال، تمھاری نیتوں اور تمھاری بری تدبیروں سے پوری طرح باخبر ہے، وہ تمھیں ان کی بہت بری سزا دے گا۔ ان کو تنبیہ کرنے کے بعد اپنی رحمت، عطا اور احسان کا ذکر کیا، اور اپنے مومن بندوں کو ان سے متنبہ کیا، تاکہ وہ بے خبری میں ان کے مکروفریب کا نشانہ نہ بن جائیں۔