پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
سورهٔ ۳

Aal-i-Imraan

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیهٔ ۹۲

لَن تَنَالُوا۟ ٱلْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ ۹۲

ہرگز نہ حاصل کر سکو گے تم نیکی، یہاں تک کہ خرچ کرو تم ان (چیزوں) سے جن کو تم پسند کرتے ہو اور جو خرچ کرو گے تم کسی چیز سے تو بلاشبہ اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے(92)

[92] اس میں اللہ کی طرف سے بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿لَنۡ تَنَالُوا الۡـبِرَّ﴾ ’’تم ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے‘‘ یعنی تم کبھی ’’بر‘‘ حاصل نہیں کرسکو گے۔ ’’بر‘‘ میں ہر قسم کے نیکی اور ثواب کے کام شامل ہیں۔ جو کرنے والے کو جنت میں پہنچاتے ہیں۔ ﴿حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّؔا تُحِبُّوۡنَ﴾ ’’جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے۔‘‘ یعنی جب تم مال کی محبت پر اللہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہوئے اللہ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کرو گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ تمھارا یمان سچا ہے اور تمھارے دلوں میں نیکی اور تقویٰ موجود ہے۔ اس میں عمدہ اشیاء خرچ کرنا بھی شامل ہے، اور خود ضرورت مند ہوتے ہوئے ضرورت کی چیز اللہ کی راہ میں دے دینا بھی اور صحت کی حالت میں خرچ کرنا بھی۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی نیکی کا معیار دل پسند اشیاء اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ جس قدر یہ خوبی کم ہوگی اتنا ہی اس کے نیک ہونے میں نقص ہوگا۔ چونکہ بندوں کو ہر انداز سے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے، کم ہو یا زیادہ، دل پسند چیز ہو یا نہ ہو۔ اور ﴿لَنۡ تَنَالُوا الۡـبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّؔا تُحِبُّوۡنَ﴾ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز سے دلی محبت نہ ہو اسے خرچ کرنے پر ثواب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا: ﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَيۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم خرچ کرو، اللہ اسے بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اللہ تمھیں تنگی میں نہیں ڈالتا، بلکہ تمھاری نیت اور چیز کے فائدے کے مطابق تمھیں اس کا ثواب دے دیتا ہے۔