پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
سورهٔ ۳

Aal-i-Imraan

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیهٔ ۹

رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ ۹

اے ہمارے رب! یقیناً تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن کہ نہیں ہے شک اس میں، بلاشبہ اللہ نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(9)

[9]﴿رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ﴾ ’’اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ یقیناً اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘ لہٰذا وہ ان کی نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ ضرور دے گا۔اللہ تعالیٰ نے (رَاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ)کی سات صفات بیان کی ہیں۔ یہ بندے کی خوش بختی کی علامت ہیں۔(۱) علم: یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ اس کے احکامات اور قوانین کو واضح کرتا ہے۔ (۲)رسوخ فی العلم ’’علم میں پختہ ہونا‘‘ یہ صفت محض علم سے بڑھ کرہے، اس لیے کہ راسخ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آدمی محقق و مدقق عالم ہو۔ جس کو اللہ نے ظاہری علم بھی عطا فرمایا ہو اور باطنی علم بھی۔ شریعت کے اسرار میں اس کا علم بھی پختہ ہوتا ہے، عمل بھی درست ہوتا ہے اور حال بھی کامل ہوتا ہے۔ (۳)وہ پوری کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور متشابہ کو محکم کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿يَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم تو اس پر ایمان لاچکے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے‘‘ (۴) وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اور جن غلطیوں میں گمراہ مبتلا ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ ان سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (۵) وہ اللہ کا احسان مانتے ہیں کہ اس نے انھیں ہدایت دی۔ کیونکہ کہتے ہیں۔ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے‘‘ (۶) اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی رحمت کا سوال کرتے ہیں۔ جس میں ہر بھلائی کا حصول اور ہر برائی سے بچاؤ شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے اللہ کے اسم مبارک اَلْوَھَّاب کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ (۷) اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ قیامت کے آنے پر ایمان اور پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور اس سے ڈرتے ہیں۔ یہی ایمان عمل کرنے پر آمادہ کرتا اور لغزش سے بچا کر رکھتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: