پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ash-Shu'araa
سورهٔ ۲۶

Ash-Shu'araa

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۲۰۴–۲۰۷

أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ۲۰۴ أَفَرَءَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـٰهُمْ سِنِينَ ۲۰۵ ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ۲۰۶ مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ ۲۰۷

کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)

[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟

[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔