پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Taa-Haa
سورهٔ ۲۰

Taa-Haa

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۹۹–۱۰۱

كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ ءَاتَيْنَـٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا ۹۹ مَّنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُۥ يَحْمِلُ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وِزْرًا ۱۰۰ خَـٰلِدِينَ فِيهِ ۖ وَسَآءَ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ حِمْلًا ۱۰۱

اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101)

[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔

[100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔

[101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔

پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: