پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
سورهٔ ۲

Al-Baqara

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۱۶–۱۱۷

وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَـٰنَهُۥ ۖ بَل لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُۥ قَـٰنِتُونَ ۱۱۶ بَدِيعُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ۱۱۷

اور کہا انھوں نے، بنا لی ہے اللہ نے اولاد، پاک ہے وہ (اس سے)بلکہ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں(116) وہ انوکھا موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا، تو صرف یہی کہتا ہے اس کو ہو جا تو پس وہ ہو جاتاہے(117)

[116]﴿ وَقَالُوا﴾ یعنی یہود و نصاریٰ، مشرکین اور ان تمام لوگوں نے کہا جو کہتے ہیں ﴿ اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اللہ نے بیٹا بنا لیا۔‘‘ انھوں نے ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو اس کی جلالت شان کے لائق نہ تھی۔ انھوں نے بہت برا کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گستاخی پر صبر کرتا ہے، حلم سے کام لیتا ہے، انھیں معاف کر کے انھیں رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں نقص ثابت کرتے ہیں ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾یعنی وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جن سے یہ اہل شرک اور اہل ظلم اسے متصف کرتے ہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔۔۔۔۔ پس پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے وہ ذات جو ہر پہلو سے کمال مطلق کی مالک ہے جسے کسی بھی پہلو سے نقص لاحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے اپنے منزہ ہونے پر دلیل قائم کی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ بَلۡ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت اور اس کی غلام ہے۔ وہ ان میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح مالک اپنے مملوک میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اس کے اطاعت گزار اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں۔ جب تمام مخلوق اس کی غلام اور اس کی محتاج ہے اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے تو ان میں کوئی کیسے اس کا بیٹا ہو سکتاہے۔ بیٹا لازمی طور پر اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے جسم کا حصہ ہے۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ مالک اور غالب ہے۔ تم سب لوگ مملوک اور مغلوب ہو، اس کی ہستی بے نیاز اور تم محتاج محض، ایسا ہونے کے باوجود اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سب سے بڑا باطل اور سب سے زیادہ قبیح بات ہے۔ ’’قُنُوت‘‘ (اطاعت کرنا) کی دو اقسام ہیں۔ (۱) قنوت عام: یعنی تمام مخلوق خالق کے دست تدبیر کے تحت اس کی اطاعت گزار ہے۔ (۲) قنوت خاص: اس سے مراد اطاعت عبودیت ہے۔ پس قنوت کی پہلی قسم وہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اور قنوت کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ذکر ﴿وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ﴾(البقرہ : 2؍238) ’’اور اللہ کے سامنے ادب اور اطاعت گزاری کے ساتھ کھڑے رہیں۔‘‘ میں مذکور ہے۔

[117] پھر فرمایا: ﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نہایت مضبوط اور بہترین طریقے سے تخلیق کیا ہے۔ ﴿وَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا بس وہ ہو جاتا ہے‘‘ یعنی کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی اور کسی چیز کو اس کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں۔