پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hijr
سورهٔ ۱۵

Al-Hijr

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۸۵–۸۶

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَـَٔاتِيَةٌ ۖ فَٱصْفَحِ ٱلصَّفْحَ ٱلْجَمِيلَ ۸۵ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْخَلَّـٰقُ ٱلْعَلِيمُ ۸۶

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کےاور بے شک قیامت ، البتہ آنے والی ہے، پس آپ درگزر کریں (ان سے) درگزر کرنا اچھے انداز سے (85) بلاشبہ آپ کا رب ، وہی پیدا کرنے والا، خوب جاننے والا ہے (86)

[85] یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں ۔ ﴿اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بے پایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ ﴾ ’’اور قیامت بے شک آنے والی ہے‘‘ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں کیونکہ ابتدا میں زمین و آسمان کی تخلیق، مخلوقات کو دوسری مرتبہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ ﴿ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ﴾ ’’پس درگزر کریں اچھی طرح درگزر کرنا‘‘ یعنی ان سے اس طرح درگزر کیجیے کہ اس میں کسی قسم کی اذیت نہ ہو بلکہ اس کے برعکس برائی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیے، اس کی تقصیر کو بخش دیجیے تاکہ آپ اپنے رب سے بہت زیادہ اجروثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔اس آیت کریمہ کے جو معانی میں نے یہاں ذکر کیے ہیں مجھ پر اس سے بہتر معانی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ… رسول اللہﷺ کو جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ ہے نہایت اچھے طریقے سے درگزر کرنا، یعنی وہ اچھا طریقہ جو بغض، کینہ اور قولی و فعلی اذیت سے پاک ہو۔ اس طرح درگزر کرنا نہ ہو جو احسن طریقے سے نہیں ہوتا اور یہ ایسا درگزر کرنا ہے جو صحیح مقام پر نہ ہو۔ اس لیے جہاں سزا دینے کا تقاضا ہو وہاں عفو اور درگزر سے کام نہ لیا جائے، مثلاً:زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزا دینا، جن کو سزا کے سوا کوئی اور طریقہ درست نہیں کر سکتا… یہ ہے اس آیت کریمہ کا معنی۔

[86]﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَلّٰقُ﴾ بے شک آپ کا رب تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اس کی مخلوقات اور اس کے احاطۂ علم یعنی تمام کائنات میں سے کوئی چیز اسے بے بس نہیں کر سکتی۔