Yusuf
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةً ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ۱۹ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ ۲۰
اور آیا قافلہ پس بھیجا انھوں نے اپنا پانی لانے والا، پس لٹکایا اس نے اپنا ڈول تو کہا اس نے، واہ خوش خبری ہے! یہ تو لڑکا ہےاورچھپایا انھوں نے اسے پونجی سمجھ کر اور اللہ خوب جانتا تھا اسے جو وہ کر رہے تھے (19) اور بیچ ڈالا انھوں نے اسے بہ قیمت ناقص، (،یعنی ) چند درہموں میں گنتی کے اور تھے وہ اس کی بابت بے رغبت (20)
[19] جناب یوسفu کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے ﴿ وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ ﴾ ’’ایک قافلہ آوارد ہوا۔‘‘ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا ﴿ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے ہراول سقے کو بھیجا‘‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ ﴿ فَاَدۡلٰى دَلۡوَهٗ﴾ ’’پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔‘‘ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسفu اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے ﴿ قَالَ يٰبُشۡرٰى هٰؔذَا غُلٰمٌ﴾ یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا ’’یہ تو قیمتی غلام ہے‘‘ ﴿ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةً﴾ ’’اور اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا‘‘
[20] یوسفu کے بھائی بھی کہیں قریب ہی تھے۔ قافلے والوں نے یوسفu کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا ﴿ بِثَمَنٍۭؔ بَخۡسٍ﴾ ’’بہت ہی معمولی قیمت میں ‘‘پھر اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی: ﴿ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍ١ۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزَّاهِدِيۡنَ﴾ ’’چند درہموں میں اور وہ اس سے بیزار ہو رہے تھے‘‘ کیونکہ ان کا مقصد تو صرف یوسفu کو غائب کر کے اپنے باپ سے جدا کرنا تھا۔ ان کا مقصد یوسفu کی قیمت حاصل کرنا نہ تھا۔اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب یوسفu اس قافلے کے ہاتھ لگ گئے تو قافلے والوں نے ان کے معاملے کو چھپانے کا عزم کر لیا تاکہ وہ انھیں بھی اپنے سامان تجارت میں شامل کر لیں ، حتیٰ کہ ان کے بھائی آگئے اور انھوں نے یوسفu کے بارے میں ظاہر کیا کہ وہ ان کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ پس قافلے والوں نے انھیں اس معمولی قیمت پر خرید لیا اور انھوں نے قافلے والوں سے یقین حاصل کیا کہ وہ بھاگ نہ جائے۔ واللہ اعلم۔