پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Kawthar
سورهٔ ۱۰۸

Al-Kawthar

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱–۳

إِنَّآ أَعْطَيْنَـٰكَ ٱلْكَوْثَرَ ۱ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ ۲ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ ۳

یقیناً عطا کی ہم نے آپ کو کوثر(1) سو آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی کریں(2) بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے: ﴿اِنَّـاۤ اَعۡطَيۡنٰكَ الۡكَوۡثَرَ﴾ یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطا کیا ۔منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا، ایک نہر بھی ہے جس کو ﴿الۡكَوۡثَرَ﴾ کہا جاتا ہے۔ حوضِ کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اور اس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، اس کے پینے کے برتن اپنی کثرت اور چمک میں آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے، جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔

[2] اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرنے کے بعد آپ کو اس احسان پر شکر اداکرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانۡحَرۡ﴾ ’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں افضل ترین عبادات اور تقرب الٰہی کا جلیل ترین ذریعہ ہیں۔ نیز ان دونوں کا خاص طور پر ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نماز قلب اور جوارح میں خشوع کو متضمن ہے ، پھر اسے عبادت کی دیگر تمام انواع میں منتقل کر دیتی ہے۔ جانور ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بندے کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے افضل ترین چیز، یعنی قربانی کے ذریعے سے تقرب الٰہی حاصل کرنا اور مال خرچ کرنا ہے جس سے محبت کرنا اور اس میں بخل کرنا نفس انسانی کی جبلت ہے۔

[3]﴿اِنَّ شَانِئَكَ﴾ آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا ﴿هُوَ الۡاَبۡتَرُ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے، اس کا عمل منقطع ہے اور اس کا ذکر منقطع ہے۔رہے رسول مصطفیٰ محمدﷺ تو حقیقت میں وہی کامل ہیں، آپ کمال کے اس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں، مثلاً: رفعت ذکر، کثرت الانصار اور کثرت متبعین ۔