پرش به محتوا
Tafsir Ibn Kathir · Al-A'laa
سورهٔ ۸۷

Al-A'laa

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱–۵

سَبِّحِ ٱسْمَ رَبِّكَ ٱلْأَعْلَى ۱ ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ ۲ وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ ۳ وَٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلْمَرْعَىٰ ۴ فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحْوَىٰ ۵

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏

مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏

مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»