زکوۃ کے اسرار کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
سب خوبیاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس کی طرف سے سعادت مندی وبدبختی ہے اور جس نے زندگی اور موت دی ، ہنسایا اوررُلایا ، وجود بخشا اور فنا کیا ، فقیر وغنی بنایا ، روکا اور عطا کیا ، جس نے حیوان کو مادۂ منویہ کے قطرے سے پیدا کیا ، وہ صفت ِغنا کے ساتھ مخلوق سے ممتاز ہے ، پھر اپنے بعض بندوں کو نیکی کے ساتھ خاص کیا اور ان میں سے جسے چاہا اپنی نعمتوں سے نوازا اور غنی کر دیا ، رزق کمانے میں ناکام ہونے والوں کو امتحان اور آزمائش کے لئے ان بندوں کا محتاج کر دیا پھر زکوٰۃ کو دین کی بنیاد بنایا اور اس بات کو واضح کیا کہ اس کے بندوں میں سے جو پاک ہوا وہ اس کے فضل وکرم سے ہی پاک ہوا اور جس کا مال پاک ہوا وہ بھی اس کے غنا سے ہی پاک ہوا اور مخلوق کے سردار ہدایت کے سورج حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رحمت ہو اورعلم و تقویٰ کے ساتھ مخصوص آپ کے آل واصحاب رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر بھی رحمت ہو ۔
بے شک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے زکوٰۃ کو اسلام کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد قرار دیا اور دین کی بڑی علامت نماز کے بعد زکوٰۃ ہی کا ذکر کیا ۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ( پ ۱ ، البقرۃ : ۴۳) ترجمۂ کنزالایمان : اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو ۔
نیز مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک ، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللّٰہ کا حج کرنا ۔ ‘‘ (2 )
زکوٰۃ نہ دینے والوں کاانجام:
زکوٰۃ دینے کے معاملے میں کوتاہی کرنے والوں کو سخت وعید سنائی ۔ چنانچہ ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور
وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) ( پ ۱۰ ، التوبۃ :۳۴)
اسے اللّٰہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی ۔
اور اِنْفَاق فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ کا معنی زکوٰۃ کا حق ادا کرنا ہے ۔
حضرت سیِّدُنا احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : میں کچھ اہلِ قریش کے ساتھ تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وہاں سے گزر ہوا آپ نے فرمایا: ’’ خزانے جمع کرنے والوں کو بشارت دے دو کہ ان کی پیٹھوں میں داغ لگایا جائے گا جو ان کے پہلوؤں سے نکلے گا اور ان کی گدیوں میں داغ لگایا جائے گا جو ان کی پیشانیوں سے ظاہر ہو گا ۔ ‘‘ (3 )
ایک روایت میں ہے کہ ان کے پستانوں کے اوپر رکھا جائے گا تو کندھوں کی نرم جگہ سے ظاہر ہو گا اورکندھوں کی نرم جگہ پر رکھا جائے گا تو پستانوں کے اوپر سے تھرتھراتا ہوا نکلے گا ۔ (4 )
حضرتِ سیِّدُناابوذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کعبہ مشرفہ کے سائے میں تشریف فرماتھے ، میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’ربِّ کعبہ کی قسم! وہ خسارہ پانے والے ہیں ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’وہ کون ہیں ؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ کثرتِ مال ودولت والے مگر وہ لوگ جو اپنے آگے پیچھے ، دائیں بائیں اِس طرح اُس طرح خرچ کریں اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور جو اونٹ ، گائے اور بکری کا مالک زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو وہ جانور بروزِ قیامت پہلے سے زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے ، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندے گے جب آخری گزر جائے گا تو پہلا دوبارہ آ جائے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے ۔ ‘‘ (5 )
جب بخاری ومسلم میں اس قدر شدید وعید مذکور ہے تو زکوٰۃ کے اسرار ، اس کی ظاہری وپوشیدہ شرائط اور ظاہری وباطنی معانی کو بیان کرنا دین کے ضروری امور میں سے ہے ۔ نیز ان مسائل پر اکتفا ضروری ہے جن کی معرفت زکوٰۃ دینے اور لینے والے کے لئے ضروری ہے ۔ ان امور کو چار فصلوں میں بیان کیا جائے گا ۔
پہلی فصل: زکوٰۃ کی اقسام اور اس کے وجوب کے اسباب ۔
دوسری فصل: زکوٰۃ کے آداب اور اس کی ظاہری وباطنی شرائط ۔
تیسری فصل: زکوٰۃ لینے والے اور اس کے مستحق ہونے کی شرائط کا بیان اور زکوٰۃ لینے کاطریقہ ۔
چوتھی فصل: نفلی صدقہ اور اس کی فضیلت ۔
1 زکوٰۃ کے فضائل ومسائل کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد 1 ، حصہ 5 ، ص866تا957کا مطالعہ کیجئے ۔
2 صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان ارکان الاسلام الخ ، الحدیث:۱۶ ، ص۲۷ ۔ ۲۸ ۔
3 صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب فی الکنازین للاموال والتغلیظ علیہم ، الحدیث:۹۹۲ ، ص۴۹۸ ۔
4 صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب فی الکنازین للاموال والتغلیظ علیہم ، الحدیث:۹۹۲ ، ص۴۹۷ ۔
5 صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب تغلیظ عقوبۃ من لا یؤدی الزکاۃ ، الحدیث:۹۹۰ ، ص۴۹۵ ، ۴۹۶ ۔
پہلی فصل: زکوٰۃ کی اقسام اور اس کے وجوب کے اسباب
اپنے متعلقات کے اعتبار سے زکوٰۃ کی چھ اقسام ہیں : (۱)…جانوروں کی زکوٰۃ (۲)… سونے چاندی کی زکوٰۃ(۳) …مالِ تجارت کی زکوٰۃ (۴)… خزانے اور معدنیات کی زکوٰۃ (۵)… زمینی پیداوار کی زکوٰۃ اور (۶)…صدقۂ فطر ۔
{1}…جانوروں کی زکوٰۃ:
جانوروں وغیرہ کی زکوٰۃ آزاد مسلمان پر فرض ہے اس میں بالغ ہونا شرط نہیں بلکہ یہ بچے اورپاگل کے مال میں بھی واجب ہوتی ہے ۔ یہ اس شخص کے لئے شرائط ہیں جس پر زکوٰۃ واجب ہے(1 ) ۔
مال میں زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط:
مال میں زکوٰۃ فرض ہونے کی پانچ شرائط ہیں : (۱)…جانور ہو (۲)… چرنے والا ہو (۳)… پورا سال باقی رہنے والا ہو (۴)… نصاب پورا ہو اور (۵)…کامل طور پرملکیت اورتصرف میں ہو ۔
تفصیل:
(۱)…جانور ہو:لہٰذا اونٹ ، گائے اور بکری کے علاوہ میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔ گھوڑے ، خچر ، گدھے ، ہرن اوربکری کے ملاپ سے پیدا ہونے والے جانور میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔
(۲)… چرنے والا ہو: لہٰذا جسے(گھرپر) چارہ دیا گیا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر کبھی چرایا گیا اور کبھی چارہ دیا گیا اور اس میں (خوراک وغیرہ کا) خرچ ظاہرہو توبھی زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔
(۳)…پوراسال باقی رہنے والاہو: جیساکہ حضور نبی ٔ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کسی مال میں اس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے ۔ ‘‘ (3 )
جانوروں کے پیدا ہونے والے بچے اس شرط سے خارج ہیں کیونکہ ان پر مال کا حکم صادق آتا ہے اور ان کے اصول پر سال گزرنے سے ان پر بھی زکوٰۃ فرض ہو گی اور سال کے دوران جب کبھی مال بیچ دے یا کسی کو ہبہ کر دے تو سال پورا نہیں ہوگا(یعنی وہ جانور حساب میں شمار نہ ہوگا) ۔
(۴)…کا مل طور پر ملکیت اور تصرف میں ہو: لہٰذارہن رکھے ہوئے جانوروں میں بھی زکوٰۃ واجب ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خود اس میں تصرف سے روکا ہوا ہے(4 ) ۔ گمشدہ یا غصب شدہ جانور میں زکوٰۃ فرض نہیں ۔ البتہ اگر وہ اپنے پورے منافع کے ساتھ واپس آ جائے تو واپسی پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی دینا ہو گی ۔ اگر اس پر اتنا قرض ہے جو اس کے تمام مال کو گھیرے ہو ئے ہے تو اس پر کوئی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی کیونکہ وہ اس کے سبب غنی شمار نہ ہو گا اس لئے کہ غنا اس مال سے ہوتا ہے جو حاجت سے بچ جائے ۔
(۵)… نصاب پورا ہو:( نصاب کی تفصیل درج ذیل ہے:)
اُونٹ کی زکوٰۃ:
پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ، پانچ اونٹوں میں جذعہ(5 ) بھیڑ ہو گی یا ثَنِیَّہ(یعنی بکری) جو تیسرے سال میں داخل ہو(6 ) ، دس اونٹوں میں دو بکریاں ، پندرہ اونٹوں میں تین بکریاں ، بیس اونٹوں میں چار بکریاں ہوں گی اورپچیس اونٹوں میں ایک بنت ِ مخاض(7 )لیا جائے گا اور اگر اس کے مال میں بنت ِ مخاض نہ ہو تو ایک ابن لبون(8 )لیا جائے گا اگرچہ وہ دو سال کا مادہ بچہ خرید سکتا ہو ۔ چھتیس(سے پینتالیس تک) میں ایک بنت ِ لبون(یعنی دو سالہ اونٹنی) لی جائے گی ، چھیالیس (سے ساٹھ تک) ہوں تو ایک حقہ(9 ) لی جائے گی ، اکسٹھ (سے پچھتر تک)ہوں توایک جذعہ لی جائے گی (10 ) ، چھہتر (سے نوے تک) ہوں تودو بنت لبون لی جائیں گی ، اکیانوے (سے 120تک )ہوں تو دو حقہ لی جائیں گی ، 121 ہو جائیں تو تین بنت ِ لبون لی جائیں گی اور جب 130 ہو جائیں تو حساب ٹھہر جائے گا پھر ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہو گی(11 ) ۔
گائے کی زکوٰۃ:
تیس سے کم گایوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ، تیس گایوں میں ایک تَبِیْع (12 ) ، چالیس میں ایک مُسِنَّہ (13 )اور ساٹھ میں دو تبیع ، پھر حساب رک جائے گااور اب ہرچالیس میں ایک مسنہ اور ہرتیس میں ایک تبیع ہو گی (14 ) ۔
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.