نماز کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اپنے لطف وکرم سے بندوں کو ڈھانپا ، دین اور احکامِ دین کے انوار سے ان کے دلوں کو آباد فرمایا ، وہ ذات کہ عرشِ الٰہی سے آسمانِ دنیا کی طرف درجاتِ رحمت میں سے اس کی کوئی نہ کوئی مہربانی اُترتی رہتی ہے ۔ وہ اپنے جلا ل وکبریائی میں یکتا ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہوں سے یوں بھی ممتاز ہے کہ وہ مخلوق کو سوال ودعا کی ترغیب دیتے ہوئے ارشادفرماتا ہے: ہے کوئی دعامانگنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اسے بخش دوں ؟ بادشاہوں کا اس سے کیا مقابلہ؟ اس نے تو دروازہ کھول کر پردہ اُٹھا دیا اور بندوں کو نماز میں مناجات کرنے کی اجازت دے دی ، نہ صرف رخصت پر اکتفا کیا بلکہ دعوت وترغیب کے ذریعے بھی مہربانی فرمائی جبکہ دیگر دنیوی کمزور بادشاہ تو کسی کو تنہائی میں وقت بھی نہیں دیتے جب تک انہیں ہدیہ یا رشوت نہ دی جائے ۔ پاک ہے وہ ذات ، اس کی شان کتنی عظیم ہے ۔ اس کی بادشاہت کتنی قوی ہے ۔ اس کا لطف وکرم کتنا کامل ہے ۔ اس کا احسان کتنا عام ہے ۔ درود اور خوب سلام ہوں اس کے منتخب نبی اور پسندیدہ دوست حضرتِ سیِّدُنا محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کے آل واصحاب رِضْوَانُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر جو ہدایت کی کنجیاں اور تاریکیوں کے چراغ ہیں ۔
بے شک نماز دین کا ستون ، یقین کا وسیلہ ، عبادات کی اصل اور طاعات کی چمک ہے ۔ ہم نے فن فقہ کی کتب ’’ بَسِیْطُ الْمَذْھَب ، وَسِیْطُ الْمَذْھَباور وَجِیْزُ الْمَذْہَب ‘‘ میں نماز کے اصولی وفروعی مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ نیز بہت سے نادر و کم وقوع پذیرہونے والے مسائل ان میں درج کئے ہیں تاکہ یہ مفتی کے لئے خزانہ بن جائے اور بوقت ضرورت وہ اس کی طرف رجوع کرے اور اس سے مدد حاصل کرے ۔ یہاں اس باب میں ہم صرف ان اعمالِ ظاہرہ اور اسرارِ باطنہ کو بیان کریں گے جن کا جاننا راہِ آخرت کے مسافر پر ضروری ہے ۔ نیز خشوع وخضوع ، اخلاص اور نیت کے وہ پوشیدہ معانی واضح کریں گے جنہیں عام طور پر فقہ میں بیان نہیں کیا جاتا اسے ہم سات ابواب پر تقسیم کرتے ہیں :(۱)…نماز کے فضائل (۲)…نماز کے ظاہری اعمال کی تفصیل (۳)…نماز کے باطنی اعمال کی تفصیل (۴)…امامت وپیشوائی کا بیان (۵)…نماز جمعہ اور اس کے آداب (۶)…متفرق مسائل جو عام طور پر پائے جاتے ہیں اور سالک کو ان سے آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے (۷)…نوافل وغیرہ کا بیان ۔
#**
باب نمبر1: نماز ، سجود ، جماعت اوراذان وغیرہ کےفضائل
**#
(یہ سات فصلوں پر مشتمل ہے)
پہلی فصل: اذان کی فضیلت
اذان کی فضیلت پرمشتمل چار فرامین مصطفٰی:
{1}…تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جو بروز قیامت سیاہ کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے انہیں حساب کا خوف ہوگا نہ کوئی گھبراہٹ یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ہوجائے: (۱)…جس نے رضائے الٰہی کے لئے قرآنِ پاک کی تلاوت کی اور لوگوں کی امامت کی جبکہ وہ اس سے خوش ہوں (۲)…جس نے رضائے الٰہی کے لئے مسجد میں اذان دی اور لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلایا (۳)…جسے دنیا میں رزق کے معاملے میں آزمایا گیا مگر اس آزمائش نے اسے اُخروی اعمال سے غافل نہ کیا ۔ (1 )
{2}…جِنّ واِنس اور جو بھی چیز مؤذن کی ندا سنتی ہے وہ بروزِ قیامت اس کی گواہی دے گی ۔ (2 )
{3}…مؤذن کے اذان سے فارغ ہونے تک رحمن عَزَّوَجَلَّ کا دست ِ قدرت اس کے سر پر ہوتا ہے ۔ (3 )
نیز اس فرمانِ باری تعالٰی:
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا ( پ ۲۴ ، حم السجدۃ :۳۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللّٰہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے ۔
کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ’’یہ آیت مؤذنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ‘‘
{4}…جب تم اذان سنو تو مؤذن کی مثل کہو ۔ (4 )
’’ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ‘‘اور’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح ‘‘ کے علاوہ کلمات میں مؤذِّن کی مثل کہنا مستحب ہے جبکہ ان دونوں کے جواب میں ’’ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ یعنی گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی توفیق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے ‘‘(5 )کہنا اور ’’ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃ ‘‘کے جواب میں ’’ وَاَقَامَہَااللّٰہُ وَاَدَامَہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْض ‘‘ کہنا(6 ) اور تثویب (یعنی اذان فجر میں مؤذن کے قول اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌمِّنَ النَّوْم کے جواب) میں ’’ صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَنَصَحْتَ ‘‘ کہنا مستحب ہے ۔ (7 )
اذان کے بعد کی دعا:
اذان سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھے: ’’ اَللّٰہُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَانالْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ الَّذِیْ وَعَدْتَہٗ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَاد یعنی اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! اس دعوتِ تامہ اور صلوۃ قائمہ کے مالک تو محمد صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کووسیلہ اور فضیلت اور بہت بلند درجہ عطا فرمااور ان کو مقام محمود میں کھڑا کر جس کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے بے شک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ ‘‘ (8 )
فرشتے مقتدی:
حضرتِ سیِّدُناسعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’جو چٹیل میدان میں نماز ادا کرتا ہے اس کی دائیں جانب ایک فرشتہ اور بائیں جانب ایک فرشتہ نماز ادا کرتا ہے اگر وہ اذان واقامت کہہ کر نماز ادا کرے تو اس کے پیچھے پہاڑوں کی مثل(یعنی کثیر تعداد میں ) فرشتے نماز پڑھتے ہیں ۔ ‘‘ (9 )
{… صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد …}
1 شعب الایمان للبیہقی ، باب فی تعظیم القرآن ، فصل فی ادمان تلاوتہ ، الحدیث:۲۰۰۲ ، ج۲ ، ص۳۴۸ ، بتغیرٍ ۔
2 صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب رفع الصوت بالنداء ، الحدیث:۶۰۹ ، ج۱ ، ص۲۲۲ ۔
3 المعجم الاوسط ، من اسمہ احمد ، الحدیث:۱۹۸۷ ، ج۱ ، ص۵۳۹ ۔ تاریخ بغداد ، عصر بن حفص:۵۹۰۱ ، ج۱۱ ، ص۱۹۳ ۔
4 صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب ما یقول اذا سمع المنادی ، الحدیث:۶۱۱ ، ج۱ ، ص۲۲۳ ۔
5 عمدۃ القاری ، کتاب الاذان ، باب مایقول اذا سمع المنادی ، تحت الحدیث:۶۱۱ ، ج۴ ، ص۱۶۴ ، باختصارٍ ۔ سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب مایقول اذا سمع المؤذن ، الحدیث ، ۵۲۷ ، ج۱ ، ص۲۲۲ ، باختصارٍ ۔
6 سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب مایقول اذا سمع الاقامۃ ، الحدیث:۵۲۸ ، ج۱ ، ص۲۲۲ ۔
7 تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر ، کتاب الصلاۃ ، الرقم:۳۱۰ ، ج۱ ، ص۵۱۹ ، دون ونصحت ۔
8 سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فی الدعاء عندالاذان ، الحدیث:۵۲۹ ، ج۱ ، ص۲۲۲ ۔ ۲۲۳ ۔ تلخیص الجبیر فی تخریج احایث الرافعی الکبیر ، کتاب الصلاۃ الرقم:۳۰۹ ، ج۱ ، ص۵۱۸ ۔
9 المصنف لعبد الرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب الرجل یصلی باقامۃ وحدہ ، الحدیث:۱۹۵۸ ، ج۱ ، ص۳۷۹ ۔
دوسری فصل: فرض نماز کی فضیلت
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآن مجید ، فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳) ( پ ۵ ، النسآء :۱۰۳)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ۔
فرض نماز کی فضیلت پر مشتمل 14فرامینِ مصطفٰی:
{1}… اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں جس نے انہیں ادا کیا اور ان کے حق کو معمولی جانتے ہوئے ان میں سے کسی کو ضائع نہ کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمّۂ کرم پر اس کے لئے وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کردے اور جس نے انہیں ادا نہ کیا اس کے لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمّۂ کرم پر عہد نہیں ، چاہے اسے عذاب دے چاہے جنت میں داخل فرمائے ۔ (1 )
{2}…پانچ نمازوں کی مثال نہر کی طرح ہے جس کا پانی صاف ستھرا اور گہرا ہو جو تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے سے گزرتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرتا ہو تو تم کیا خیال کرتے ہو کہ اس کے جسم پر کوئی میل باقی چھوڑے گی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’نہیں ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’پانچ نمازیں (صغیرہ)گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے پانی میل کو ختم کردیتا ہے ۔ ‘‘(2 )
{3}…بے شک نماز یں گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں سے بچا جائے ۔ (3 )
{4}…ہمارے اور منافقین کے درمیان عشا اور فجر کی (جماعت میں ) حاضری کا فرق ہے ، منافقین کو ان دو نمازوں میں حاضری کی طاقت نہیں ۔ (4 )
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.