Skip to content
Book 6 · Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn
Book 6 · اردو

روزوں کا بیان

This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.

Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22

What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اپنے بندوں پر احسانِ عظیم فرمایا کہ ان سے شیطان کے مکر وفریب کو دور کیا ، اس کی امید کو مردود اور اس کے گمان کو ناکام کر دیا ۔ روزوں کو اپنے دوستوں کے لئے قلعہ اور ڈھال بنایا ۔ ان کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے اور انہیں اس بات کی پہچان کرائی کہ ان کے دلوں تک شیطان کے پہنچنے کا ذریعہ خواہشات ہیں ۔ خواہشات کو ختم کرنے سے نفسِ مطمئنہ دشمن شیطان کو ختم کرنے میں غالب اور قوی ہوتا ہے ۔ مخلوق کے قائد اور سنت پر چلانے والے حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ ، احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے آل واصحاب پر رحمت اور خوب سلام ہو جو روشن بصیرت اور ترجیح یافتہ عقلوں والے ہیں ۔

فضائل روزہ کے متعلق11فرامین مصطفٰے:

بے شک روزہ چوتھائی ایمان ہے ۔ کیونکہ

{1}…روزہ آدھاصبر ہے ۔ (1 )

{2}…اور صبر آدھا ایمان ہے ۔ (2 )

پھر روزے کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ دوسرے تمام ارکان کی بنسبت اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے خاص نسبت حاصل ہے ۔ چنانچہ ،

{3}…حدیث ِ قدسی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:’’ہر نیکی کا ثواب 10گنا سے لے کر 700گنا تک ہے سوائے روزہ کے ۔ بے شک یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ ‘‘ (3 )

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ( پ ۲۳ ، الزمر :۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان :صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی ۔

روزہ صبر کا نصف ہے اس کا ثواب اندازہ وحساب سے بڑھ کر ہے اور اس کی فضیلت جاننے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

{4}…اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ’’یہ شخص اپنی خواہش اور کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ ‘‘ (4 )

{5}…جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے جس میں صرف روزہ دار داخل ہوں گے ۔ (5 )

روزے کی جزا کے طور پر روزہ دار سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

{6}…روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں : ایک خوشی افطار کے وقت ، دوسری خوشی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کے وقت ۔ (6 )

{7}…ہر چیز کا ایک دروازہ ہے اور عبادت کا دروازہ روزہ ہے ۔ (7 )

{8}…روزہ دار کا سونا عبادت ہے ۔ (8 )

{9}…حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب ماہِ رمضان آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور ایک مُنادی ندا کرتا ہے: اے بھلائی کے طالب! آگے بڑھ اور اے

برائی چاہنے والے! باز آ ۔ ‘‘ (9 )

حضرت سیِّدُناوکیع عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان: كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ(۲۴) ( پ ۲۹ ، الحاقۃ :۲۴) ترجمۂ کنزالایمان :کھاؤ اور پیؤ رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا ۔ کے متعلق فرمایا: اس سے مراد روزوں کے ایام ہیں کیونکہ ان دنوں انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا میں زہد اختیار کرنے اور روزہ رکھنے کے رتبہ پر فخر کو جمع کرکے ارشادفرمایا ۔

{10}… بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نوجوان عابد پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ’’اے میرے لئے اپنی خواہش کو ترک کرنے والے ، میرے لئے اپنی جوانی خرچ کرنے والے نوجوان! تو میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کی طرح ہے ۔ ‘‘ (10 )

{11}…آقائے دوعالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روزہ دار کے متعلق فرمایا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے: ’’اے میرے فرشتو! میرے بندے کو دیکھو ، اس نے اپنی خواہش ، اپنی لذَّت اور اپنا کھانا پینا میرے لئے چھوڑ دیا ۔ ‘‘ (11 )

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) ( پ ۲۱ ، السجدۃ :۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان :تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چُھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا ۔

اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ان لوگوں کا عمل روزے رکھنا ہے کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ( پ ۲۳ ، الزمر :۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان :صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی ۔

لہٰذاروزہ دار کو اس کی جزا وافر اور بے حساب دی جائے گی جو کسی گمان اور پیمانے کے تحت نہیں ہو گی اورمناسب یہی ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ روزہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے اور اس کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے اسے خصوصی مقام ومرتبہ حاصل ہے اگرچہ تمام عبادات اسی کے لئے ہیں یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بَیْتُ اللّٰہ شریف کو تمام زمین پر فضیلت حاصل ہے اگرچہ تمام زمین اسی کی ہے کیونکہ بیت اللّٰہ شریف کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے ۔

دیگر عبادات پرروزے کی افضلیت کی وجہ:

اس کی دو وجوہات ہیں :(۱)…روزہ عمل کو چھوڑنے اور اس سے رکنے کا نام ہے اور یہ ذاتی طور پر پوشیدہ ہے اس میں دکھائی دینے والا کوئی عمل نہیں جبکہ دیگر تمام اعمال لوگوں کو نظر آتے ہیں ۔ روزے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی ملاحظہ فرماتا ہے اور وہ محض صبر کے ذریعے باطنی عمل ہے ۔ (۲)…یہ دشمن خدا(شیطان مردود) پر غلبہ پانے کا ذریعہ ہے کیونکہ شیطان لعین کا وسیلہ خواہشات ہیں ( جن کے ذریعے وہ بنی آدم کو دھوکا دیتاہے) اور شہوات کو تقویت کھانے پینے سے حاصل ہوتی ہے اسی لئے حضور نبی ٔ پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے پس بھوک کے ذریعے اس کے راستوں کو تنگ کرو ۔ ‘‘ (12 ) اسی وجہ سے حضور نبی ٔ اکرم ، رسول محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد فرمایا: ’’ہمیشہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہو ۔ ‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’کس چیز سے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’بھوک سے ۔ ‘‘ (13 )

عنقریب’’ مُہْلِکَات ‘‘ کے بیان میں کھانے کی خرابی اور اس کے علاج کے ضمن میں بھوک کی فضیلت بیان کی جائے گی ۔ لہٰذا (دیگر عبادات کے مقابلے میں )بالخصوص روزہ شیطان کی جڑ کاٹنے والا ، اس کے راستوں کو روکنے اور تنگ کرنے والا ہے تو وہ خصوصی طور پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ نسبت کا مستحق ہوا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن کی بیخ کنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مددسے ہی ممکن ہے اور مدد الٰہی تب شامل حال ہو گی جب بندہ دین الٰہی کی مدد کرے ۔ چنانچہ ، قرآن مجید ، فرقان حمید میں ارشاد ہوتاہے:

اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ(۷) ( پ ۲۶ ، محمد :۷)

ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو! اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے اللّٰہ تمہاری مدد کرے گااور تمہارے قدم جمادے گا ۔

پس ابتداء ً جدوجہد بندے کا کام ہے اور ہدایت کے ساتھ بدلہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے ۔ اسی لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ- ( پ ۲۱ ، العنکبوت :۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان :اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے ۔

ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ- ( پ ۱۳ ، الرعد :۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان :بے شک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں ۔

40 of 234
The Arabic text
كتاب أسرار الصوم

Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21

This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.