طہارت کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
سب خوبیاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اپنے بندوں پر لطف وکرم فرماتے ہوئے انہیں پاکیزگی کا حکم فرمایا اور ان کے باطن کو پاک کرنے کے لئے ان پر مہربانیوں کا فیضان جاری کیا ان کے ظاہر کو پاک کرنے کے لئے رقیق اور بہنے والا پانی بنایا اور حضرتِ سیِّدُنا محمدمصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو جن کا نورِ ہدایت کائنات کے گوشے گوشے کو محیط ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ آل پر ایسی رحمت ہو جس کی برکات محشر کے دن ہمیں نجات دلائیں نیز ہمارے اور ہر مصیبت کے درمیان ڈھال کا کام دیں ۔
طہارت کے متعلق حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیے:
طہارت کے متعلق تین فرامینِ مصطفٰی
{1}…’’ بُنِیَ الدِّ یْنُ عَلَی النَّظَافَۃ یعنی: دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے ۔ ‘‘ (1 )
{2}…’’ مِفْتَاحُ الصَّلٰو ۃِ اَلطُّہُوْر یعنی: نماز کی کنجی طہارت ہے ۔ ‘‘ (2 )
(پاگیزگی حاصل کرنے والوں کی فضیلت میں )ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸) ( پ ۱۱ ، التوبۃ :۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللّٰہ کو پیارے ہیں ۔
{3}…’’ اَلطَّہُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَان یعنی پاکیزگی آدھا ایمان ہے ۔ ‘‘ (3 )
قرآنِ پاک میں ارشادہوتاہے :
مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ ( پ ۶ ، ا لما 1 ئدۃ : ۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کر دے ۔
ان روایات کے ظاہر سے اہل بصیرت نے جان لیا کہ سب سے زیادہ اہمیت باطن کی صفائی کی ہے کیونکہ حضورنبی ٔکریم ، رء و ف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ظاہر کو تو پانی بہا کر پاک کر لیا جائے مگر باطن کو گندگیوں سے پاک نہ کیا جائے ۔
طہارت کے درجات:
طہارت کے چار درجات ہیں :(۱)ظاہر کوناپاکیوں ، نجاستوں اور پاخانے وغیرہ سے پاک کرنا(۲) اعضاء کو جرائم اور گناہوں سے پاک کرنا (۳)دل کو برے اخلاق اور ناپسندیدہ خصلتوں سے پاک کرنا(۴) باطن کو غیراللّٰہ سے پاک کرنا ۔
آخری درجے کی طہارت انبیا وصدیقین کی طہارت ہے ۔ ہر رتبہ میں طہارت اس عمل کا نصف ہے جس میں وہ پائی جاتی ہے ۔ مثلاً باطنی عمل (یعنی چوتھے درجے) میں مقصود یہ ہے کہ اس کے لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی جلالت وعظَمت ظاہر ہو جائے اور معرفت ِ الٰہی باطن میں اس وقت تک جاگزیں نہیں ہوسکتی جب تک کہ غیر خدا کا خیال دل سے نہ نکل جائے ۔ اسی لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
قُلِ اللّٰهُۙ-ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۱) ( پ ۷ ، الانعام :۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ کہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں کھیلتا ۔
کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں (اور کسی کے دو دل ہو نہیں سکتے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:)
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ- ( پ ۲۱ ، الاحزاب :۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے ۔
اور جہاں تک دل کی پاکیزگی(یعنی تیسرے درجے ) کا معاملہ ہے تو اس میں اصل مقصود دل کی طہارت ہے اور اس کے دودرجے ہیں :(۱)دل کو اچھے اخلاق اورشرعی عقائد سے آباد کرنااور (۲) برے عقائد اورناپسندیدہ خصلتوں سے پاک رکھناان میں سے ایک درجہ دوسرے کے لئے شرط ہے ۔ اس معنٰی کے اعتبار سے پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔ دل کی طرح اعضاء کی طہارت کے بھی دو درجے ہیں :(۱)انہیں ممنوعات سے پاک رکھنا اور (۲) طاعات سے مزین کرنا ۔ اس میں پہلادرجہ دوسرے کے لئے شرط ہے ۔ یہ ایمان کے درجات ہیں اور ہر درجے کے لئے ایک طبقہ ہے ۔ بندہ اس وقت تک بلند درجے تک رسائی نہیں پاسکتا جب تک نچلے درجے سے اوپر نہ چلا جائے ۔
بلند مقام پر فائز ہونے سے مانع عمل:
بندہ اس وقت تک باطن کو مذموم صفات سے پاک اور اچھی عادات سے آباد نہیں _ کر سکتا جب تک کہ دل کو بری عادت سے پاک اور اچھے اخلاق سے مزین نہ کر لے اور جو شخص اعضاء کو ممنوعات(ناپسندیدہ امور) سے پاک اور عبادت سے معمور نہ کر لے وہ بلندمقام پر فائز نہیں ہوسکتا ۔ پس جب مطلوب قابلِ عز وشرف ہو تواس کا راستہ دشواراور طویل ہوتا ہے اور گھاٹیاں زیادہ ہوتی ہیں ۔ لہٰذایہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ چیز باآسانی حاصل ہو جائے گی ۔ البتہ! جو شخص ان درجات میں فرق کو نہیں سمجھ سکتا وہ طہارت کا آخری درجہ ہی سمجھ سکتا ہے(یعنی ظاہر کو گندگیوں اور نجاستوں سے پاک کرنا) جو کہ مطلوبہ مغز کے اعتبار سے آخری ظاہری چھلکا ہے وہ اس میں بہت غور و خوض کرتا اور اس کے طریقوں میں مبالغہ کرتا ہے ۔ نیزاپنے تمام اوقات استنجا کرنے ، کپڑے دھونے ، ظاہر کی صفائی کرنے اور بہنے والے وافر پانی کی طلب میں گزار دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے وسو سے اور عقلی گمان میں یہی سمجھتا ہے کہ طہارت جو مطلوب ہے وہ یہی ہے ۔ ایسا شخص اسلاف کی سیرت سے ناواقف ہے اور نہیں جانتا کہ اسلاف توظاہری امور کے مقابلے میں اپنی تمام فکر وہمت اور کوشش دل کی صفائی میں لگا دیتے تھے ۔ چنانچہ ،
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگراہل صفہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم بُھنا ہوا گوشت کھاتے پھر نماز کا وقت ہوجاتا توہم اپنی انگلیاں کنکریوں میں ڈال کر مٹی سے پونچھ لیتے اور تکبیر کہتے ۔ ‘‘ (4 )
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’زمانۂ رسالت میں ہم اشنان (ایک قسم کی بوٹی جو صابن کی مثل صفائی کا کام دیتی ہے) کے متعلق نہیں جانتے تھے ۔ ہمارے رومال ہمارے پاؤں کے تلوے ہی ہوتے تھے ۔ جب ہم چکنائی والی چیز کھاتے توہاتھوں کوتلووں ہی سے صاف کر لیتے تھے ۔ ‘‘ (5 )
سب سے پہلی بدعتیں :
منقول ہے کہ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے پہلے چاربدعتیں ظاہر ہوئیں :
(۱)…چھلنی (۲)…اشنان (۳)…ٹیبل اور (۴)…پیٹ بھر کر کھانا ۔
جوتے پہن کرنماز پڑھنا کیسا؟
الغرض اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی تمام تر توجہ باطن کی صفائی کی طرف ہواکرتی تھی یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ ’’جوتے پہن کر نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام نے آقائے دوعالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو توجہ دلائی کہ نعلین پاک میں کچھ لگ گیا ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جوتے اتار دیئے ، صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی جوتے اُتار دیئے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’تم نے جوتے کیوں اُتارے (7 )؟‘‘ (8 )
حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (نماز میں )جوتے اتارنے کا رد کرتے ہوئے جوتے اتارنے والوں کے متعلق فرمایاکرتے تھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ کوئی حاجت مند آئے اور ان کے جوتے لے کر چلتا بنے ۔ ‘‘
نیز اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام (ظاہری)امور میں بہت کم توجہ دیتے تھے بلکہ گلی کوچوں کے کیچڑ سے ننگے پاؤں گزرجاتے ، اس پر بیٹھ جاتے ، مساجد میں زمین پر(کچھ بچھائے بغیر) نمازاداکر لیتے ، گندم اور جَو کاآٹا استعمال کر لیتے حالانکہ وہ جانوروں کے ذریعے گاہا جاتااوروہ اس پر چلتے ہیں ، وہ نجاست میں لوٹ پوٹ ہونے والے اونٹوں اور گھوڑوں کے پسینے سے نہیں بچتے تھے ۔ اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام میں سے کسی کے متعلق منقول نہیں کہ اس نے نجاست کی باریکیوں کے متعلق سوال کیا ہو ، اس معاملے میں وہ اس حد تک بے توجُّہ رہتے تھے ۔
برائی نیکی اور نیکی برائی بن گئی:
اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ایک گروہ نے جہالت کا نام پاکیزگی رکھ دیاہے اور اسے دین کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ ان کا زیادہ وقت ظاہر کو سنوارنے میں گزرتا ہے جیسا کہ دلہن کنگھی سے بالوں کوسنوارتی ہے ۔ جبکہ ان کا باطن خراب اور غرور وتکبر ، خودپسندی ، جہالت ، ریا اور نفاق سے بھرا ہوا ہے اور حد تو یہ ہے کہ وہ ان برائیوں کو ناپسند نہیں جانتے اور نہ ہی ان پر تعجب کرتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص صرف پتھر سے استنجا کرے یا زمین پر ننگے پاؤں چلے یا زمین پر نماز پڑھے یامصلّٰی بچھائے بغیر مسجد کی چٹائی پر نماز پڑھے یا چمڑے کا موزہ پہنے بغیر ننگے پاؤں چلے یا کسی بڑھیا یا بے پرواہ شخص کے برتن سے وضو کرے تو اس پر قیامت ڈھا دیتے اور اعتراض کرتے ہیں ۔ اسے ناپاک ٹھہراتے اور اپنے گروہ سے خارج کر دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ کھانا پینا اور میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے اور وہ شکستہ حالی جو ایمان کا حصہ ہے اسے ناپاکی ٹھہراتے اور تکبر کو پاکیزگی کا نام دیتے ہیں ۔ غور کیجئے کہ کیسے برائی نیکی اور نیکی برائی بن گئی اور دین کے رسم و رواج ایسے مٹتے چلے گئے جیسے اس کی حقیقت وعلم مٹ گیا ۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگرآپ کہیں کہ صوفیانے اپنی شکل وصورت اور پاکیزگی کے معاملے میں جو عادات اپنارکھی ہیں کیا ہم انہیں ممنوعات ومنکرات کہہ سکتے ہیں ؟تو میں کہوں گا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر تفصیل کے مطلق ایسی بات کہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ حصولِ پاکیزگی ، تکلُّف ، برتن وآلات تیار کرنا ، جوتے استعمال کرنا ، گردوغبار سے بچنے کے لئے چادر اوڑھنا اور اس کے علاوہ اسباب کو اگر ذاتی طور پر دیکھا جائے کوئی دوسری چیز ملحوظ نہ ہو تو یہ چیزیں مباح ہیں ۔ بعض اوقات ان کے ساتھ کچھ احوال اور نیتیں ملحق ہوتی ہیں جو انہیں کبھی اچھے کاموں سے ملادیتی ہیں اور کبھی برے کاموں سے ۔
#**
اشیاء کامباح ، مذموم اور محمود ہونا:
**#
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.