المجادلة
هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.
النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوْ كَانُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَٰنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْإِيمَـٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ ٱللَّهِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٢٢
نہیں پائیں گے آپ کسی قوم کو جو ایمان رکھتے ہوں اللہ اور دن آخرت پر، کہ وہ دوستی کریں ان سے جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کی، اگرچہ ہوں وہ ان کے باپ، یا ان کے بیٹے ،یا ان کے بھائی، یا ان کا قبیلہ ہی ،یہ لوگ، لکھ دیا ہے (اللہ نے) ان کے دلوں میں ایمان اور تائید کی ان کی ساتھ ایک روح کے اپنی طرف سے اور داخل کرےگا انھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اس سے، یہ لوگ گروہ ہیں اللہ کا، آگاہ رہو! یقیناً گروہ اللہ کا، وہی ہیں فلاح پانے والے (22)
[22] اے نبی! آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہیں پائیں گے۔ یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا اور ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا، خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو۔یہ ہے وہ حقیقی ایمان جس کا پھل ملتا ہے اور جس سے مقصود حاصل ہوتا ہے۔ اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے یعنی اس کور اسخ اور ثابت کر دیا ہے اور ان کے دلوں میں شجر ایمان کو اگا دیا ہے جو کبھی متزلزل ہو سکتا ہے نہ شکوک و شبہات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے روح کے ذریعے سے طاقت ور بنایا ہے یعنی اپنی وحی، اپنی معرفت، مدد الٰہی اور اپنے احسان ربانی کے ذریعے سے تائید کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اس دنیا میں حیات طیبہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے نعمتوں بھری جنتیں ہیں، جہاں ہر وہ چیز ہو گی جو دل چاہیں گے۔ جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور اسے پسند کریں گی، ان کے لیے ایک سب سے بڑی اور افضل ترین نعمت ہو گی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رضا نازل فرمائے گا اور ان سے کبھی ناراض نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ ان کو جو اکرام و تکریم کی مختلف انواع سے نوازے گا، ان کو جو وافر ثواب عطا کرے گا، جو بے پایاں عنایات سے بہرہ مند اور ان کے درجات بلند کرے گا، وہ اس پر اپنے رب سے راضی ہوں گے، وہ اس طرح کہ ان کے مولا نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہو گا، اس کی کوئی انتہا ان کو نظر نہیں آئے گی۔رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا زعم رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ مودت و موالات بھی رکھتا ہے، اور ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جنھوں نے ایمان کو پس پشت ڈال رکھا ہےتو یہ ایمان کا محض خالی خولی دعویٰ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کیونکہ ہر دعوے کے لیے کسی دلیل کا ہونا لازمی ہے جو اس کی تصدیق کرے۔ پس مجرد دعویٰ کسی کام نہیں آتا اور ایسا دعویٰ کرنے والے کی تصدیق نہیں کی جاتی۔