الرحمن
هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.
النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ٢٦ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَـٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ ٢٧ فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٨
سب (کے سب) جو(اس زمین) پر ہیں فنا ہوجانے والے ہیں (26) اور باقی رہے گا چہرہ آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (27) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (28)
[28-26] یعنی زمین کی ہر چیز، انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہو جائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی ﴿ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ﴾ جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا ہے اَلْإِکْرَام سے مراد بے پایاں فضل و جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء و خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیاء و خواص اس کی تکریم کرتے، اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟