الرحمن
هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.
النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21
وَلَهُ ٱلْجَوَارِ ٱلْمُنشَـَٔاتُ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَـٰمِ ٢٤ فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٥
اور اسی کی ہیں (کشتیاں) چلنے والی، جو بلند کی ہوئی ہیں سمندر میں پہاڑوں کی مانند (24) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (25)
[24، 25] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ ان کشتیوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان، مال تجارت اور دیگر اشیاء لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾(اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟