سیدھے مواد پر جائیں
سورت 64 · آیت 7

At-Taghaabun 64:7

التغابن

زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ

معنی

ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے[1] ۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے[2] پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے[3] اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے.[4]

[1] یعنی یہ عقیدہ کہ قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے، یہ کافروں کا محض گمان ہے، جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔ زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔
[2] قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورۂ یونس، آیت 53 اور دوسرا مقام سورۂ سبا، آیت 3 ہے۔
[3] یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرےگا؟ اس لیے تاکہ وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔ کیونکہ دنیا میں ہم دیکھتے کہ یہ جزا مکمل شکل میں بالعموم نہیں ملتی۔ نیک کو نہ بد کو۔ اب اگر قیامت والے دن بھی مکمل جزا کا اہتمام نہ ہو تو دنیا ایک کھلنڈرے کا کھیل اور فعل عبث ہی قرار پائے گی، جب کہ اللہ کی ذات ایسی باتوں سے بہت بلند ہے۔ اس کا تو کوئی فعل عبث نہیں، چہ جائیکہ جن وانس کی تخلیق کو بےمقصد اور ایک کھیل سمجھ لیا جائے۔ تَعَالَى اللهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔
[4] یہ دوبارہ زندگی ، انسانوں کو کتنی ہی مشکل یا مستبعد نظر آتی ہو ، لیکن اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ان سے کہو "نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے"

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

کافروں نے بکا کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے، تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہارے کوتک تمہیں جتا دیے جائیں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے،

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

کافروں نے سمجھ لیا کہ قبروں سے اٹھائے نہ جائیں گے کہہ دوکیوں نہیں مجھے اپنے رب کی قسم ہے ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں بتلایا جائے گا جو کچھ تم نے کیا تھا اور یہ بات الله پر آسان ہے

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

کافر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ فرما دیجئے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں بتا دیا جائے گا جو کچھ تم نے کیا تھا، اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
At-Taghaabun

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net