Al-An'aam 6:128
الأنعاموَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَـٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کرے گا، (کہے گا) اے جماعت جنات کی! تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لیے[1] جو انسان ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وه کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائده حاصل کیا تھا[2] اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تونے ہمارے لئے معین فرمائی[3]، اللہ فرمائے گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے، ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے[4]۔ بے شک آپ کا رب بڑی حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے۔
[1] یعنی انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو تم نے گمراہ کرکے اپنا پیروکار بنالیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورۂ یٰسین میں فرمایا: ”اے بنی آدم کیا میں نے تمہیں خبردار نہیں کردیا تھا کہ تم شیطان کی پوجا مت کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے اور اس شیطان نے تمہاری ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کردیا ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے؟“ (یاسین: 60 / 62)
[2] جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے کیا فائدہ حاصل کیا ؟ اس کے دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بناکر ان سے تلذذ حاصل کرنا ہے اور انسانوں کا جنوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ شیطانوں نے گناہوں کو ان کے لئے خوبصورت بنادیا جسے انہوں نے قبول کیا اور گناہوں کی لذت میں پھنسے رہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان غیبی خبروں کی تصدیق کرتے رہے جو شیاطین وجنات کی طرف سے کہانت کے طور پر پھیلائی جاتی تھیں۔ یہ گویا جنات نے انسانوں کو بےوقوف بناکر فائدہ اٹھایا اور انسانوں کا فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ انسان جنات کی بیان کردہ جھوٹی یا اٹکل پچو باتوں سے لطف اندوز ہوتے اور کاہن قسم کے لوگ ان سے دنیاوی مفادات حاصل کرتے رہے۔
[3] یعنی قیامت واقع ہوگئی جسے ہم دنیا میں نہیں مانتے تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب جہنم تمہارا دائمی ٹھکانہ ہے۔
[4] اور اللہ کی مشیت کفار کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہی ہے جس کی اس نے بار بار قرآن کریم میں وضاحت کی ہے۔ بنابریں اس سے کسی کو مغالطے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ یہ استثنا اللہ تعالیٰ کے مطلق ارادہ کے بیان کے لئے ہے جسے کسی چیز کے ساتھ مقید نہیں کیا جاسکتا اس لئے اگر وہ کفار کو جہنم سے نکالنا چاہے تو نکاﻝ سکتا ہے اس سے نہ وہ عاجز ہے نہ کوئی دوسرا روکنے والا۔ (ایسر التفاسیر )
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جنوں سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ "ا ے گروہ جن! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا" انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے "پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خو ب استعمال کیا ہے، اور اب ہم اُس وقت پر آ پہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا" اللہ فرمائے گا "اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے" ا"س سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بے شک تمہارا رب دانا اور علیم ہے
معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil
اور جس دن اُن سب کو اٹھانے گا اور فرمائے گا، اے جن کے گروہ! تم نے بہت آدمی گھیرلیے اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے اے محبوب! بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے،
معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil
اور جس دن ان سب کو جمع کرے گا جنوں کی جماعت سے فرمائے گا تم نے آدمیوں سے بہت سے اپنے تابع کر لئے تھے اور آدمیوں میں سے جو جنوں کے دوست تھے کہیں گے اے رب ہمارے ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کام نکالا اور ہم اپنی اس معیاد کو آ پہنچے جو تو نے ہمارے واسطے مقرر کی تھی فرمائے گا تم سب کا ٹھکانا آگ ہے اس میں ہمیشہ رہو گے اس سے صرف وہی بچیں گے جنہیں الله بچائے گا بے شک تیرا رب حکمت والا جاننے والا ہے
معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil
اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا:) اے گروہِ جنّات (یعنی شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے (خوب) فائدے حاصل کئے اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی (مگر ہم اس کے لئے کچھ تیاری نہ کر سکے)۔ اﷲ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے مگر جو اﷲ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،
معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net