An-Najm 53:32
النجمٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَـٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی[1] ۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے[2]۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے[3]۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو[4]، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے.
[1] كَبَائِرُ، كَبِيرَةٌ کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہروہ گناہ کبیرہ ہے جس پر جہنم کی وعیدہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسے کبیرہ گنا ہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیقی میں الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فَوَاحِشُ، فَاحِشَةٌ کی جمع ہے، بےحیائی پر مبنی کام، جیسے زنا، لواطت وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، جن گناہوں میں حد ہے، وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ آج کل بے حیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہو گئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو تہذیب سمجھ لیا گیا ہے، حتیٰ کہ اب مسلمانوں نے بھی اب اس تہذیب بے حیائی کو اپنا لیا ہے۔ چنانچہ گھروں میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا ہے،بلکہ بن سنورکر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنا لیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد وزن کا بےباکانہ اختلاط اور بےمحابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ جن کی بابت یہاں بتلایا جا رہاہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر وفواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔
[2] لَمَمٌ کےلغوی معنی ہیں، کم اورچھوٹا ہونا، اسی سے اس کے یہ استعمالات ہیں أَلَمَّ بِالْمَكَانِ(مکان میں تھوڑی دیر ٹھہرا) أَلَمَّ بِالطَّعَامِ (تھوڑسا کھایا) ، اسی طرح کسی چیز کو محض چھو لینا، یا اس کے قریب ہونا، یا کسی کام کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کرنا، اس پر دوام و استمرار نہ کرنا، یا محض دل میں خیال کا گزرنا، یہ سب صورتیں لَمَمٌ کہلاتی ہیں، (فتح القدیر) اس کے اس مفہوم اور استعمال کی رو سے اس کے معنی صغیرہ گناہ کیے جاتےہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کےمبادیات کا ارتکاب، لیکن بڑےگناہ سے اجتناب کرنا، یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کامﺤﺾ دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادےگا۔
[3] أَجِنَّةٌ، جَنِينٌ کی جمع ہے جو پیٹ کے بچےکو کہا جاتا ہے،اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سےمستور ہوتا ہے۔
[4] یعنی جب اس سے تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتیٰ کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پرقادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے وہ واقف تھا، تو پھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے وہ تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے
معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil
وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں
معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil
وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں مگر صغیرہ گناہوں سے بے شک آپ کا رب بڑی وسیع بخشش والا ہے وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کیا تھا اور جب کہ تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے پس اپنے آپ کو پاک نہ سمجھو وہ پرہیزگار کو خوب جانتا ہے
معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil
جو لوگ چھوٹے گناہوں (اور لغزشوں) کے سوا بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، بیشک آپ کا رب بخشش کی بڑی گنجائش رکھنے والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہاری زندگی کی ابتداء اور نشو و نما زمین (یعنی مٹی) سے کی تھی اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جَنیِن (یعنی حمل) کی صورت میں تھے، پس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مَت جتایا کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ (اصل) پرہیزگار کون ہے،
معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net