سیدھے مواد پر جائیں
سورت 46 · آیت 35

Al-Ahqaf 46:35

الأحقاف

فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَـٰغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ

معنی

پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کرو[1] ، یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعده دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے[2] تھے، یہ ہے پیغام پہنچا[3] دینا، پس بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا.[4]

[1] یہ کفار مکہ کے رویے کے مقابلے میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے اور صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
[2] قیامت کاہولناک عذاب دیکھنے کے بعد انہیں دنیا کی زندگی ایسے معلوم ہوگی جیسے دن کی صرف ایک گھڑی یہاں گزار کر گئے ہیں۔
[3] یہ متبدا محذوف کی خبرہے۔ أَيْ : هَذَا الَّذِي وَعَظْتَهَمْ بِهِ بَلاغٌ یہ وہ نصیحت یا پیغام ہے جس کا پہنچانا تیرا کام ہے۔
[4] اس آیت میں بھی اہل ایمان کے لئے خوش خبری اور حوصلہ افزائی ہے کہ ہلاکت اخروی صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ کےنافرمان اور اس کی حدود پامال کرنے والے ہیں۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہو گا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو گویا وہ جس دن دیکھیں گے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

پھر صبرکر جیسا کہ عالی ہمت رسولوں نے کیا ہے اور ان کے لیے جلدی نہ کر گویا کہ وہ جس دن عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے (تو انہیں ایسا معلوم ہو گا) کہ ایک دن میں سے ایک گھڑی بھر رہے تھے آپ کا کام پہنچا دینا تھا سو کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

پس (اے محمدﷺ) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ (یہ قرآن) پیغام ہے۔ سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

(اے حبیب!) پس آپ صبر کئے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمّت پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور آپ ان (منکروں) کے لئے (طلبِ عذاب میں) جلدی نہ فرمائیں، جس دن وہ اس (عذابِ آخرت) کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، (یہ اﷲ کی طرف سے) پیغام کا پہنچایا جانا ہے، نافرمان قوم کے سوا دیگر لوگ ہلاک نہیں کئے جائیں گے،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
Al-Ahqaf

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net