سیدھے مواد پر جائیں
سورت 4 · آیت 93

An-Nisaa 4:93

النساء

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَـٰلِدًا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًا

معنی

اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے[1] ، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔[2]

[1] یہ قتل عمد کی سزا ہے۔ قتل کی تین قسمیں ہیں۔ (1) قتل خطا (جس کا ذکر ماقبل کی آیت میں ہے)۔ (2) قتل شبہ عمد جو حدیث سے ثابت ہے، (3) قتل عمد جس کا مطلب ہے، ارادہ اور نیت سے کسی کو قتل کرنا اور اس کے لئے وہ آلہ استعمال کرنا جس سے فی الواقع عادتاً قتل کیا جا رہا ہے جیسے تلوار، خنجر وغیرہ۔ آیت میں مومن کے قتل پر نہایت سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ مثلاً اس کی سزا جہنم ہے، جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا، نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا۔ اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئیں۔ جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں کتنا جرم ہے۔ احادیث میں بھی اس کی سخت مذمت اور اس پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
[2] مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ بعض علماء مذکورہ سخت وعیدوں کے پیش نظر قبولِ توبہ کے قائل نہیں۔ لیکن قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہو سکتا ہے۔ ”إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا“ ( الفرقان: 70) اور دیگر آیات توبہ عام ہیں۔ ہرگناہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا یا بہت بڑا توبہ النصوح سے اس کی معافی ممکن ہے۔ یہاں اس کی سزا جہنم جو بیان کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کی یہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ اس جرم پر اسے دے سکتا ہے۔ اسی طرح توبہ نہ کرنے کی صورت میں خلود (ہمیشہ جہنم میں رہنے) کا مطلب بھی مُكْثٌ طَوِيلٌ (لمبی مدت) ہے۔ کیونکہ جہنم میں خلود کافروں اور مشرکوں کے لئے ہی ہے۔ علاوہ ازیں قتل کا تعلق اگرچہ حقوق العباد سے ہے تو جو توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بھی اس کی تلافی اور ازالہ فرما سکتا ہے اس طرح مقتول کو بھی بدلہ مل جائے گا اور قاتل کی بھی معافی ہو جائے گی۔ (فتح القدیر وابن کثیر )

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب،

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر الله کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور الله نے اس کےلیے بڑا عذاب تیا رکیا ہے

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
An-Nisaa

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net