سیدھے مواد پر جائیں
سورت 4 · آیت 57

An-Nisaa 4:57

النساء

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۖ لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا

معنی

اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور شائستہ اعمال کئے[1] ہم عنقریب انہیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے لئے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں (اور پوری راحت) میں لے جائیں گے۔[2]

[1] کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے جو ابدی نعمتیں ہیں، ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن وہ اہل ایمان جو اعمال صالحہ کی دولت سے مالا مال ہوں گے، جَعَلَنَا اللهُ مِنْهُمْ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر جگہ ایمان کے ساتھ اعمال صالح کا ذکر کرکے واضح کر دیا کہ ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایمان، عمل صالح کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے پھول ہو مگر خوشبو کے بغیر، درخت ہولیکن بے ثمر۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خیرالقرون کے دوسرے مسلمانوں نے اس نکتے کو سمجھ لیا تھا۔ چنانچہ ان کی زندگیاں ایمان کے پھل، اعمال صالحہ سے مالا مال تھیں۔ اس دور میں بے عمل یا بدعملی کے ساتھ ایمان کا تصور ہی نہیں تھا۔ اس کے برعکس آج ایمان صرف زبانی جمع خرچ کا نام رہ گیا ہے۔ اعمال صالحہ سے دعوے داران ایمان کا دامن خالی ہے۔ هَدَانَا اللهُ تَعَالَى، اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے عمل کرتا ہے جو اعمال صالحہ کی ذیل میں آتے ہیں۔ مثلا راست بازی، امانت ودیانت، ہمدردی وغم گساری اور دیگر اخلاقی خوبیاں۔ لیکن ایمان کی دولت سے یہ محروم ہے تو اس کے یہ اعمال، دنیا میں تو اس کی شہرت ونیک نامی کا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اللہ کی بارگاہ میں ان کی کوئی قدروقیمت نہ ہوگی اس لئے کہ ان کا سر چشمہ ایمان نہیں ہے جو اچھے اعمال کو عنداللہ بار آور بناتا ہے بلکہ صرف اور صرف دینوی مفادات یا قومی اخلاق وعادات ان کی بنیاد ہے۔
[2] گھنی، گہری، عمدہ اور پاکیزہ چھاؤں جس کو ترجمہ میں پوری راحت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے جنت میں ایک درخت ہے جس کا سایہ اتنا ہے کہ ایک سوار سو سال میں بھی اسے طے نہیں کر سکے گا یہ شجرۃ الخلد ہے۔ (مسند أحمد،جلد 2 ص 455، وأصله في البخاري، كتاب بدء الخلق باب نمبر ٨ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة)

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

او رجو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان کے لیے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں رکھیں گے

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ہم انہیں بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو بہت گھنے سائے میں داخل کریں گے،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
An-Nisaa

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net