سیدھے مواد پر جائیں
سورت 4 · آیت 153

An-Nisaa 4:153

النساء

يَسْـَٔلُكَ أَهْلُ ٱلْكِتَـٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَـٰبًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا۟ مُوسَىٰٓ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓا۟ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَءَاتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَـٰنًا مُّبِينًا

معنی

آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ﻻئیں[1] ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تو انہوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دکھا دے، پس ان کے اس ﻇلم کے باعﺚ ان پر کڑاکے کی بجلی آ پڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، لیکن ہم نے یہ بھی معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ (اور صریح دلیل) عنایت فرمائی۔

[1] یعنی جس طرح موسیٰ (عليه السلام) کوہ طور پر گئے اور تختیوں پر لکھی ہوئی تورات لے کر آئے، اسی طرح آپ بھی آسمان پر جا کر لکھا ہوا قرآن مجید لے کر آئیں۔ یہ مطالبہ محض عناد، جحود اور تعنت کی بنا پر تھا۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر اُن پر نازل کراؤ تو اِس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰؑ سے کر چکے ہیں اُس سے تو اِنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اِسی سرکشی کی وجہ سے یکایک اِن پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے اس پر بھی ہم نے اِن سے درگزر کیا ہم نے موسیٰؑ کو صریح فرمان عطا کیا

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

اے محبوب! اہل کتاب تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتاردو تو وہ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے کہ بولے ہمیں ا لله کو اعلانیہ دکھادو تو انہیں کڑک نے آ لیا ان کے گناہوں پر پھر بچھڑا لے بیٹھے بعداس کے لئے روشن آیتیں ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ معاف فرمادیا اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ دیا

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

اہلِ کتاب تجھ سےدرخواست کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے لکھی ہوئی کتب اتار لائے سو موسیٰ سے اس سے بڑی چیز مانگ چکے ہیں اور کہا ہمیں الله کو بالکل سامنے لا کر دکھا دے ان کے اس ظلم کے باعث ان پر بجلی ٹوٹ پڑی پھر بہت سی نشانیاں پہنچ چکنے کے بعد بچھڑے کو بنا لیا پھر ہم نے وہ بھی معاف کر دیا اور ہم نے موسیٰ کو بڑا رعب دیاتھا

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

(اے حبیب!) آپ سے اہلِ کتاب سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے (ایک ہی دفعہ پوری لکھی ہوئی) کوئی کتاب اتار لائیں، تو وہ موسٰی (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا سوال کر چکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اﷲ (کی ذات) کھلم کھلا دکھا دو، پس ان کے (اس) ظلم (یعنی گستاخانہ سوال) کی وجہ سے انہیں آسمانی بجلی نے آپکڑا (جس کے باعث وہ مرگئے، پھر موسٰی علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہوئے)، پھر انہوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا لیا اس کے بعد کہ ان کے پاس (حق کی نشاندہی کرنے والی) واضح نشانیاں آچکی تھیں، پھر ہم نے اس (جرم) سے بھی درگزر کیا اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (ان پر) واضح غلبہ عطا فرمایا،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
An-Nisaa

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net