Yaseen 36:12
يسإِنَّا نَحْنُ نُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا۟ وَءَاثَـٰرَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ فِىٓ إِمَامٍ مُّبِينٍ
بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے[1] ، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں[2] اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے.[3]
[1] یعنی قیامت والے دن۔ یہاں احیائے موتی کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں میں سے جس کا دل چاہتا ہے، زندہ کردیتا ہے جو کفروضلالت کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ پس وہ ہدایت اور ایمان کو اپنا لیتے ہیں۔
[2] مَا قَدَّمُوا سے وہ اعمال مراد ہیں جو انسان خود اپنی زندگی میں کرتا ہے اور آثَارَهُمْ سے وہ اعمال جن کے عملی نمونے (اچھے یا برے) وہ دنیا میں چھوڑ جاتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اقتدا میں لوگ وہ اعمال بجا لاتے ہیں۔ جس طرح حدیث میں ہے ”جس نےاسلام میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا، اس کے لئے اس کا اجر بھی ہے اور اس کا بھی ہے جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا۔ بغیر اس کے کہ ان میں سے کسی کے اجر میں کمی ہو اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا، اس پر اس کے اپنے گناہ کا بھی بوجھ ہوگا اور اس کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ ان میں کسی کے بوجھ میں کمی ہو“۔ (صحيح مسلم، كتاب الزكاة ، باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة) اسی طرح یہ حدیث ہے ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔ سوائے تین چیزوں کے۔ ایک علم، جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (2) نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعا کرے (3) یا صدقہ جاریہ، جس سے اس کے مرنے کے بعد بھی لوگ فیض یاب ہوں“۔ (صحيح مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته) دوسرا مطلب آثَارَهُمْ کا نشانات قدم ہے۔ یعنی انسان نیکی یا بدی کے لئے جو سفر کرتا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو قدموں کے یہ نشانات بھی لکھے جاتے ہیں۔ جیسے عہد رسالت میں مسجد نبوی کے قریب کچھ جگہ خالی تھی تو بنوسلمہ نے ادھر منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے علم میں یہ بات آئی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں مسجد کے قریب منتقل ہونے سے روک دیا اور فرمایا : «دَيَاركُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ» (دو مرتبہ فرمایا) یعنی تمہارے گھر اگرچہ دور ہیں، لیکن وہیں رہو، جتنے قدم تم چل کر آتے ہو، وہ لکھے جاتے ہیں۔ (صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب فضل كثرة الخطى إلى المساجد) امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں مفہوم اپنی جگہ صحیح ہیں، ان کے درمیان منافات نہیں ہے۔ بلکہ اس دوسرے مفہوم میں سخت تنبیہ ہے، اس لئے کہ جب قدموں کے نشانات تک لکھے جاتے ہیں، تو انسان جو اچھا یا برا نمونہ چھوڑ جائے جس کی لوگ بعد میں پیروی کریں تو وہ بطریق ادنیٰ لکھے جائیں گے۔
[3] اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے صحائف اعمال مراد لئے ہیں۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے
معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil
بیشک ہم مُردوں کو جِلائیں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں
معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil
بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور جو انھوں نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا اس کو لکھتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو کتاب واضح (لوح محفوظ) میں محفوظ کر رکھا ہے
معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے۔
معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil
بیشک ہم ہی تو مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو (اَعمال) وہ آگے بھیج چکے ہیں، اور اُن کے اثرات (جو پیچھے رہ گئے ہیں)، اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں احاطہ کر رکھا ہے،
معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net